بلوچستان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ

کراچی: انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) کی چیئرپرسن زہرا یوسف نے بلوچستان میں قلات کے علاقے جوہان اور مستونگ کے علاقے اسپلنگی میں فورسز کے مبینہ آپریشن میں عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

زہرا یوسف کے مطابق سیکیورٹی اداروں کے لیے ضروری کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال نہ ہو، اس سے بلوچستان کی عوام میں احساس محرومی بڑھے گا۔

یاد رہے کہ تین روز قبل جوہان کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران عبد النبی بنگلزئی نامی مبینہ عسکریت پسند کئی ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا تھا، بعدازاں میڈیا کو جاری کیے گئے سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ عبد النبی بنگلزئی کالعدم یونائیٹڈ بلوچ آرمی کا مبینہ کمانڈر تھا۔

مزید پڑھیں: مستونگ میں مغوی مسافروں کو قتل کر دیا گیا

عبدالنبی بنگلزئی کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وہ گزشتہ برس جون میں مستونگ میں 22 پختون مسافروں کے قتل میں ملوث تھا۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے رواں ماہ کے شروع میں بتایا تھا کہ قلات کے علاقے جوہان میں ایک کریک ڈاؤن میں 34 مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں : بلوچستان میں عبد النبی بنگلزئی سمیت 34 ‘دہشت گرد’ ہلاک

اس آپریشن کے بعد سے جوہان اور اسپلنگی میں مشتبہ عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں پر میڈیا میں متواتر تبصرے ہو رہے ہیں، ان 2 علاقوں میں حالیہ دنوں بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کوئٹہ کے سول ہسپتال سے ہوئی۔

یہ صورتحال ایچ آر سی پی کے لیے باعث تشویش ہے کیونکہ اس بات کی تصدیق کرنا ممکن نہیں کہ ان افراد کی ہلاکتیں فوجی آپریشن میں ہی ہوئی ہیں، کیونکہ ان علاقوں میں انسانی حقوق کے اہلکاروں کو رسائی حاصل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں : کوئٹہ اور پشین سے 7 لاشیں برآمد

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے زہرا یوسف کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند دنوں میں کوئٹہ کے سول ہسپتال میں 27 افراد کی لاشیں لائی جاچکی ہیں، یہ ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سے ان علاقوں میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں کی رسائی مشکل ہوئی ہے تب سے ان ہلاکتوں کی شناخت ناممکن ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ژوب سے 4 لاشیں برآمد

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے نمائندوں نے کوئٹہ کے گرد ونواح کے علاقوں میں مقامی افراد سے رابطہ کرکے ان سے معلومات لیں، جن کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے عام شہری تھے۔

پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تعمیرات کے حوالے سے زہرا یوسف کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں یہ معلومات مل رہی ہیں کہ ان ہلاکتوں کی وجہ پاک چین اقتصادی راہداری ہے، لیکن ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ان علاقوں میں فوج مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے، جس کے باعث وہاں ہمارے نمائندوں کی رسائی ممکن نہیں ہے۔’

یہ خبر 13 اپریل 2016 کے روزنامہ ڈان کراچی میں شائع ہوئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *