میری زندگی … میرا اختیار

عینا سیدہ
آخری بار جب پاکستان میں ڈھنگ کی مردم شماری ہوئی تو کل آبادی کا 47.96 فیصد خواتین پر مشتمل تھا ہر١٠٠ خواتین کو ١٠٨ مردوں کے مقابل کھڑا کیا جاۓ تو انکی عددی طاقت یوں بھی ہر ایک پر واضح ہوجاتی ہے. کسی بھی بین الاقوامی سروے یا قومی اعدادوشمار کی رپورٹس پر نظر دوڑا ئیں آپکو پاکستانی خواتین کی مجموعی ابتر حالت کا ادراک ہو جاۓ گا . صحت، تعلیم ،کھیل، روزگار،سیاست ہر ایک شعبے میں خواتین کو کم سے کم موا قع دیۓ جاتے ہیں اس کے باوجود کہ انپر آنے والی نسلوں کا دارومدار ہے یعنی قوم کی اصل سربراہ ایک عورت ہی ہوتی ہے پھر بھی اسکی تعلیم و تربیت اور صحت کو بڑی ڈھٹا ئی سے نظرانداز کیا جاتا ہے.لیکن معا ملہ اگرمذھب کا آجاۓ یا جھوٹی سچی انا کا یا پھر صدیوں پرانی ان روایتوں کا جنکی نہ ابتدا کا کچھ پتہ ہے اورنہ انکی شروعا ت کرنے والے موجد کا ،تو یہ معاشرہ اورمذھب دونوں ہی عورت کے مزار پر اپنے عقیدے اور روا یتوں کے محل تعمیر کرتے ہیں اس وقت کسی کو یہ یاد نہیں آتا کہ یہ بے کار و کمزور مخلوق جسکی ہمیں نہ صحت کی پروا ہ ہے نہ تعلیم و تربیت کی آج اسکے نظرانداز وجود پر اتنا بار کیوں ڈال رہے ہیں .

بچپن سے لڑکپن تک احساس ذمہ داری کے اندوہناک بوجھ تلے دبی معصوم بچی چاہے پاکستان کے دیہات میں رہتی ہو یا شہری علاقوں میں اسکی زندگی ایک روبوٹ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی . معاشرے کی پابندیاں ہوں یا مذھب کی ، خاندان کے رواج ہوں یا قبیلے کی رسوم ہر حال میں یہ میرا ہی فرض ہے کہ میں نیک پروین بن کر ساری ذمہ داریوں کو پورا کروں . معاشرے نے مجھ پر ایک خاص عمرمیں شادی کرنےکا طوق ڈالا ہے اور مذھبی ٹھیکیداروں نے ایک خاص پردے کا، خاندان مجھ سے غیرمشروط فرما نبرداری چاہتا ہے تو قبیلہ اپنی ناجائزروایتوں کی پاسداری ! معاشرے کی کند ذہنی اور تعصب ملاحظہ فرمائیں کہ ان سب ذمہ داریوں کونبھانےوالےکاندھوں کو مضبوط کہنےکی بجاۓ ہمیں “صنف نازک ” ، ” ناقص العقل” اور ” ناتواں ” کہا جاتا ہے. ایک طرف ہمیں عزت کے مینارے پر بیٹھا کر ” غیرت” کی مالا جپی جاتی ہے تو دوسری طرف گھر میں ، گلیوں ، محلوں ، بازاروں اور تو اور سوشل میڈیا پر بھی ہماری ہی ذات کو ” گالی ” بنایا جاتا ہے یہ نام کے غیرت مند” بے غیرت ” اپنی مرد ذات کو گالی دینے کا حوصلہ بھی نہیں رکھتے اور آ جا کر کسی کی اندیکھی ماں اور اجنبی بہن کو گالی دے کر اپنے مردانہ جلال کا اظہار فرماتے ہیں .

اب اگرمیں ان ذمہ داریوں میں سےکسی ایک کے خلاف بغاوت کروں یا اپنی بشری یا روحانی کمزوری کی وجہ سے کسی ایک کو بھی مکمل طور پر بجا نہ لاؤں تو اس بے رحم معاشرے کے لیے میں “نیک پروین” “سے” بلڈی پروین ” بن جاتی ہوں۔

گھر کے تمام افراد بشمول ” نیکی و پرہیز گاری “کا مینارہ بنی خواتین سب کے سب ہی مجھ پر نظریں گاڑے رہتے ہیں پھرخاندان اور محلے کا تو کیا ہی کہنا وہاں تو یوں بھی بھیڑیو ں کی کچهاریں عام ہوتی ہیں .اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا خواب تو بہت دور کی بات ہے اپنی مرضی کا لباس ، اپنی مرضی کی بول چال بھی آپکو ” خراب لڑکی ” کا نشان امتیاز دلا سکتی ہے۔

“باغی لڑکی ” کے بارے میں کچھ مفروضے تو طے کر دیے گیۓ ہیں یعنی یہ کہ اول تو اسکی شادی نہیں ہوگی ، ہوگئی تو طلاق / خلع دو یا تین دن کی بات ہے اور اگر کوئی اس ” بے حیا ” کو برداشت کر لے گا تو اولاد کی تباہی تو یقینی ہے . اس طرح کے خیالات اور ان سے جڑے واقعات سے معاشرے کی بلڈی پروین ایک ہی سبق سیکھتی ہے ” بدنام جو ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا ” جب نام خراب ہے، شہرت خراب ہے، عزت راس نہیں اور یہ سب کچھ بلاوجہ ہے تو پھر” سچ مچ ” بسم اللہ ہی کیوں نہ کر لی جاۓ۔

سو اس معاشرے کا المیہ یہی ہے کہ ہر دو صورتوں میں عورت کے حقوق سے غفلت برتنا اور اس پر ہر قسم کی ذمہ داری ڈالنا اسکو ان دو را ہوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

کسی کو یہ پرواہ نہیں کہ لڑکی کی جسمانی اور دماغی صحت کے لیے کھیل کود ، تعلیم اور دیگر مشاغل کس قدر ضروری ہیں مگرہرایک اس غم میں گھلا جارہا ہے کہ آنے والی نسلوں کےلیےاسکو سگھڑ عورت، فرمانبردار بیوی ، قربانی کرنےوالی ماں اور سسرال کےسامنے بے زبان گاۓ کی طرح خاموش کھڑی مخلوق کس طرح بنا یاجاۓ۔

اور دوسری جانب اپنے حقوق سے بے بہرہ دوسروں کو اپنے کھوکھلے قہقہوں ، خوشبو سے معطرحسین جسم اور میک اپ زدہ خوبصورتی سے لبھاتی اپنے زعم میں معاشرے سے بغاوت کرتی لڑکی ہے جو مردوں کو خوش کرنے کےفرایض ہی ادا کرتی رہ جاتی ہے! جن خواتین کو دقیانوسی مرد ناک بھون چڑھا کر اور لبرل مرد آنکھیں چمکا چمکا کر ” آزاد ، ترقی یافتہ ، لبرل ، خودمختار وغیرہ وغیرہ ” کہہ رہے ہوتے ہیں انکی ترقی بھی کسی اور کو خوش اور آسودہ کرنے میں ہوتی ہے ! کون اس بات پر دلیل دے سکتا ہے کہ کسی خاتون کو کم سے کم لباس پہنے بغیر ” سانس ” نہیں آتی یا کھانا ہضم نہیں ہوتا یا اپنے ہونٹوں کو خون جیسی لالی دے کر بھرپور نہ بنائیں تو انکا دل دھڑکنا چھوڑدیتا ہے…..پھر یہ سب کس کے لیے ؟ ظاہر ہے بے چاری “فرایض” پورے کرتی ہے نیک عورت بن کر نہ سہی بری عورت بن کر ہی سہی۔

سو ہمارے اپنے حقوق کہاں ہیں ؟

ہماری تعلیم ، ہماری صحت ، ہمارا خوش رہنا ، اپنی مرضی سے رہنا ، اپنی شخصیت کی مضبوطی کے ساتھ رہنا ، کسی دوسرے کی چھاپ کے بغیر اپنے منفرد وجود کے ساتھ رہنا …..یہی ہمارے حقوق ہیں. ایک انسان ہونے کے ناتے میرا مجھ پر پہلا حق ہے ! میری خوشی ، میری امنگیں ، میرا ولولہ ، میری امید میرے پیدائیشی حقوق ہیں جو مجھ سے چھیننا نہ کسی معاشرے کا حق ہے اور نہ کسی مذھب یا قبیلے کا۔

میرا لباس میری شخصیت کا آئینہ دار ہونا چاہیے نہ کہ کسی نیک یا بد خصلت کو خوش کرنے کا ذریعہ . میری تعلیم میری ذہنی ترقی کا با عث ہونی چاہیے نہ کہ کسی دوسرے گھر کو چلانے کی ذمہ دار .میرا وقاراور میری حیا میرے لیے ہیں نہ کہ خاندان، قبیلے،قوم اور مذھب کی بھینٹ چڑھانے کے لیے ! میری خودمختاری ، میری آزادی اور میرا ترقی پسند ہونا میرے لیے ہے نہ کہ اپنے ارد گرد گھومتے بھوکے ناآسودہ مردوں کو” خوشیاں اور سکون ” پہنچانے کے لیے۔

اپنی بہنوں سے یہی درخواست ہے کہ اپنی شخصیت میں توازن پیدا کر کے ہوشمند ،صحتمند ، باوقار اور خودمختاربنیں ! سوپر وومن بن کر ہرلمحے اپنے فرایض کی نگرانی نہ کرتی رہیں بلکہ اپنےحقوق کی نگہبانی بھی کریں اورانہیں پس پشت نہ ڈالیں اپنے ارد گرد موجود ماحول کو جتنا بدل سکتی ہیں بدلیں کیونکہ وہ دور گزرگیۓ جب تبدیلی بازؤوں کی طاقت مانگتی تھی آج دماغ کی طاقت سےآ پ وقت اورحالات کو اپنی مٹھی میں قید کر سکتی ہیں۔

! شرط بس ایک ہے کہ آپکی نیت نیک ہو اور ارادے مضبوط

aina syeda

آئینہ سیدہ نے عملی زندگی کا آغاز ایک استاد کی حیثیت سے کیا اور قلم کا سفر پاکستانی سیاست کے اتار چڑھا ؤ اور معاشرے کی منافقتوں پر اخبارات اور رسائل میں کالم نگاری سے ،احساسات کی ترجمانی کرنے کے لیے شاعری کا سہارا لیتی ہیں اور زندگی کو مقصد فراہم کرنے کے لیے کمیونٹی کو اکثر اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرتی رہتی ہیں
————————– ان سے رابطے کے لیے ٹویٹر ہینڈل ہے

@A_ProudCivilian

aina has 13 posts and counting.See all posts by aina

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *