تعارف رنگین و بیگماتی زبان

تحریر: یمین الاسلام زبیری

کوئی لگ بھگ پچیس سال ہوئے ہونگے کہ ایک دن میں صدر کراچی کے فٹپاتوں کی سیر کر رہاتھا اور حسب عادت میری نظریں فٹپاتی کتب فروشوں کے اسباب کا جائزہ لے رہی تھیں۔ ایک حضرت نے مختصر سے حجم کے کتابچوں کا ایک ڈھیر لگا رکھا تھا، کوئی سو تو ہونگے۔ قیمت چھ رپیہ فی تھی۔ میں نے ایک کتابچہ اٹھا کر دیکھا تو سرورق پر بال پین سے اس کتاب کا عنوان لکھا ہوا تھا، عنوان تھا: فرہنگ محاورات  بیگمات – از – سعادت یار خان، ان کا تخلص یعنی رنگین اندر کے صفحوں پر لکھا ہوا تھا۔ سعادت یار خان عرف رنگین کے نام سے میں بچپن سے واقف تھا کہ ان کی ایک نظم میرے اردو کے نصاب میں شامل تھی، غالبا پانچویں کا ہوگا۔ نظم ایک اندھے اور ایک بینا کےبارے میں تھی، اور مجھے ابھی تک یاد ہے۔ کتابچے کا مطالعہ کرنے پر اور اٹھانوے صفحے پڑھ لینے کے بعد ننیانوے پر یہ پتہ چلا کہ اس میں آخر کے ساٹھ صفحات ’دیوان انشا  ریختی‘ ہے۔ سعادت یار خاں رنگین پر لکھی گئی ہر کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ رنگین انشا اللہ خاں انشا کے گہرے دوست تھے۔کس نے چھاپہ ہے کہیں نہیں لکھا۔ البتہ کہاں چھپا ہے تو کتابچہ کی آخری سطر ہے : مطبوعہ نظامی پریس بدایوں۔ کراچی کے فٹپاتھ تک کیسے پہنچا یہ شاید علم نجوم سے بھی نہ معلوم ہوسکے کیوں کہ اس پر کوئی بھی تقویمی تاریخ درج نہیں ہے۔ مشہور وبگاہ ’ریختہ ‘ پر بھی ایک ایسا ہی، اسی حجم کا  بجلی کا کتابچہ موجود ہے جس کے سرورق پر زیادہ معلومات موجود ہے: صفحے پر  اوپر سے جملہ حقوق محفوظ ہیں کے بعد یہ کچھ  لکھا ہے: کیا ریختی کہہ کہہ کے کیا نام ہے پیدا ٭ اے جان ترا عیب بھی بہتر ہے ہنر سے؛  دیوان رنگین ، انشا؛ مرزا سعادت یار خاں رنگین اور سید انشا اللہ خاں انشا کا وہ نادرر کلام جو دہلی کی بیگماتی زبان اور عہد مغلیہ کی آخری دور کی معاشرت کا آئینہ ہے؛ مرتبہ نظامی بدایونی؛ مطبوعہ نظامی پریس بدایوں۔ آخری صفحے پر لکھا ہےاس کتاب میں شری گوپال پیپر مل کا کاغذ استعمال کیا گیا ہے جو ۔۔ڈیوس ایکسچینج  کارپوریشن لمیٹیڈ مرادآباد نے کنٹرول ریٹ پر سپلائی کیا۔

جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں میں رنگین کے نام سے واقف تھا تو میں نے ایک  کتابچہ فوراً خرید لیا۔

میں نے اس کتابچے کو بہت دلچسپ پایا۔ اس سے پہلے میں اس کے بارے میں کچھ بتائوں میرا خیال ہے کہ رنگینؔ کے بارے میں کچھ بتاتا چلوں۔ ان کے والد کا نام طہماس خان تھا۔ وکیپیڈیا کے مطابق  رنگین کی پیدائیش ۱۷۵۵ اور وفات۱۸۳۴  ہے۔ ایک وبگاہ، بائو ببلیوگرافی، کے مطابق ان کی پیدائیش سرہند کی تھی، اور انتقال دہلی میں ہوا۔  اور یہ کہ ابتدا میں شاہ حاتم کے شاگرد تھے لیکن اپنے پورے دیوان  کی اصلاح غلام ہمدانی مصحفی سے لی۔

 میری تحقیق سے رنگین نے چار مغل بادشاہوں کے دور دیکھے، جن کے نام یہ ہیں: عالم گیر ثانی، شاہ جہاں سوئم، شاہ عالم ثانی اور اکبر شاہ ثانی۔

رنگین سپاہی پیشہ تھے۔ سیر و سیاحت کا شوق بہت بڑھ کر تھا۔ طبیعت بھی انہوں نے رنگین پائی تھی۔ ڈاکٹر صابر علی خاں، پروفیسر کوئین میری کالج، لاہور، اپنی کتاب سعادت یار خاں رنگین کے پیش لفظ میں رقم طراز ہیں: ’اردو کے بدنام شعرا میں سعادت یار خاں رنگینؔ کا نام سر فہرست ہے۔ لوگ انہیں انشا اللہ خاں انشا کے یار اور ریختی کے موجد کی حیثیت سے جانتے ہیں۔‘ انہی صفحات میں وہ بتاتے ہیں کہ رنگین نے پندھرہ سال کی عمر سے شعر گوئی شروع کی تھی۔ یہ اردوشاعری کا عبوری دور تھا۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ، خوش قسمتی سے رنگین کا تمام کلام انڈیا آفس لندن میں محفوظ ہے۔ اس میں بہت سا ان کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔  اسی کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں کہ رنگین  کثیر اللسان  تھے اور سترہ زبانیں جاتے تھے۔ مرہٹہ سے لے کرترکی تک، اور ان میں شعر کہنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

ڈاکٹر صابر لکھتے ہیں کہ رنگین کو ریختی کا موجد قرار دیا جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں، ’ریختی کی کوئی فنی حیثیت نہیں۔ بعض ناقدین کے نزدیک ادب میں اس کا ذکر ہی نہیں کرنا چاہیے۔ رنگین کی یہ ایجاد ان کے حق میں زہر ثابت ہوئی اور اس بدنامی یا شہرت نے ان کے کلام پر ایسا پردہ ڈالا جسے آج پہلی مرتبہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے (یعنی ڈاکڑ صاحب کی کوشش)۔‘

 ڈاکٹر صاحب کی یہ تصنیف کراچی کی چھپی ہوئی ہے اور اسے انجمن ترقی اردو نے ۱۹۵۶ میں چھاپا تھا۔ یہ  ریختہ ڈاٹ آرگ کی وبگاہ پر موجود ہے۔ میں خود اس وبگاہ سے مستفیظ ہوتا ہوں اس لیے اس وبگاہ کے بانی جناب سنجیو سراف کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔  (نیچے دیے گئے کتابوں کے ذکر میں ڈاکٹر صاحب کی کتاب اور وکیپیڈیا سے مدد لی گئی ہے۔( سنین ہجری ہیں اور یہ کتابت کی تاریخیں ہیں))

رنگین کی ۳۲ میں کی چندکتابیں یہ ہیں: دیوان ریختہ ۱۲۲۹ھ، یہ دوسرا دیوان ریختہ ہے پہلا جنگ پاٹن  (گجرات ) میں ضائع ہوگیا تھا؛ دیوان بیختہ ، اس میں نو رتن رنگین کی تفصیل ہے۱۲۴۹ھ ؛ دیوان امیختہ، یعنی دیوان ہزلیات،  اس میں شیطان کی مدح میں ایک قصیدہ بھی ہے ، جس کی ابتدا بسم اللہ کی بجائے نعوذ باللہ سے ہوتی ہے۔۱۲۴۹ھ؛ دیون انگیختہ (دیوان ریختی) بیگماتی زبان میں (غالبا وہی جو میرے پاس ہے) ۱۲۴۹ھ؛ مجموعہ رنگین ، اس میں ایک قصیدہ ٹیپو سلطان کی مدح میں بھی شامل ہے۱۲۴۹ھ ؛ عجائب غرائب رنگین ، ۶۴ حکایات ہیں۱۲۲۹ھ ؛چہار چمن رنگین ، چار مثنویاں۱۲۴۹ھ ؛ پنجہ رنگین ، پانچ آدمیوں پر مثنویاں ہیں۱۲۴۸ھ ؛ نظم رنگیں اس میں ایک ہزار اشعاراور  ایک سو حکایات ہیں اور سب حکایات جدا جدا  بحور میں ہیں  ۱۲۴۹ھ ؛  داستان رنگین ، گجرات کے سوداگر بچہ کی عجیب و غریب کہانی۱۲۴۹ھ ؛ نصاب ترکی  ۱۲۴۵ھ، مثنوی بہ طرز مولانا روم ۱۲۴۸ھ؛ حکایت رنگین ۱۲۴۸ھ بدھو گل فروش اور وزیرن سبزی فروش کا رنگین کا آنکھوں دیکھا واقعہ ہے، پانسو شعر ہیں(تاریخ ندارد)؛تصنیف رنگین، شاہ ولی اللہ کے فارسی رسالے کا ترجمہ مثنوی میں۱۲۴۱ھ، فرس نامہ رنگین ۱۲۴۵ھ اس کا انگریزی ترجمہ لفٹنینت کرنل ڈی سی فلٹ نے کیا  جو لندن میں طبع ہوا؛ رنگین نامہ ، غزل کے پہلے مصرع کے شروع میں جو حرف ہے غزل کے آخری مصرع کے آخر میں بھی وہی حرف ہے ۱۲۴۱ھ ؛ نسخہ درستی قصیدہ مرزا رفیع سودا بہ فرمائیش شمشیر خاں(تاریخ ندارد)؛ اور مثنوی مہ جبین و نازنین، شہزادہ مہ جبین اور سری نگر کی شاہ زادی نازنین کا قصہ(تاریخ ندارد)؛ ۔ ایک رسالہ اپنی فوجی تربیت پر ہے (تاریخ ندارد)؛ اور ایک گھوڑوں پر مفصل ہے(تاریخ ندارد) ۔

یہاں میں وہ تحریر جو کہ ’بیگماتی زبان‘ کے پہلے صفحے پر رنگین کی اپنی ہے، جسے ہم پیش لفظ کہہ سکتے ہیں، رقم کر رہا ہوں ۔ اس تحریر میں ایک فارسی جملہ رقم ہوا ہے جس میں کچھ گڑ بڑ ہے کیوں کہ میرے فارسی اور دری جاننے والے اسے سمجھنے سے قاصر رہے۔ یہ جملہ رنگین کے اس کتابچے میں بھی جو ریختہ ڈاٹ آرگ پر ہے ایسے ہی لکھا ہوا ہے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۃ

بعد حمد رب العالمین اور نعت سیدالمرسلین، خاکپائے شعرائے نکتہ چیں، سعادت یار خاں رنگیں، عرض کرتا ہے کہ بیچ ایام جوانی کے یہ نامہ سیاہ اکثر گاہ بگاہ عرس شیطانی کہ عبارت جس سے تماش بینی خانگیوں کی ہے کرتا تھا اور اس قوم  میں ہر ایک فصیح کی تقریر پر دھیان دھرتا تھاْ، ہر گاہ چند مدت جو اس وضع پر اوقات بسر ہوئی تو اس عاصی کو ان کی اصطلاح اور محاوروں سے بہت سی خبر ہوئی۔ پس واسطے خوشی انھیں اشخاص عام بلکہ خاص کی بولیوں کو ان کی زبان میں اس بے زبان ہیچمدان نے موزوں کرکے دیوان ترتیب دیا۔ بقول شخصے گندہ بروزہ باخشکہ خوردن ہر چند کہ گندہ گر ایجاد بندہ۔ لیکن اس دیوان میں لغات اور محاورے ایسے ایسے نظم ہوئے تھے کہ جو اکثر یاروں سے سمجھے نہ جاتے تھے اور وہ ان کے دریافت کرنے کو میرے پاس آتے تھے۔ ناچار وہ جو دقیق الفاظ تھے ان کو بندے نے اس دیباچہ میں اس طور سے شرح کرکے لکھ دیا تاکہ کسی لفظ کے معنی پڑھنے اور دیکھنے والوں سے رہ نہ جائیں۔ رنگین۔ (نیچے اس لغات سے کچھ نمونے درج ہیں۔ اس لغات میں جس نے بھی یہ کتابچہ شائع کیا ہےاس نے تحریف کی ہے (غالبا نظامی صاحب نے) ۔ ایک آدھ جگہ ناشر نے اصل لفظ  حذف کرکے درج  کردیاہے کہ یہاں رنگین نے عضو ئے انسانی کا ذکر کیا تھا  )

 

باجی اس کو کہتے ہیں جو چھوٹے سن میں جنتی ہے تو اس کو اس کی بیٹی اگر ماں کہے تو شایان شان نہیں پس وہ باجی کہتی ہے غرض یہ لفظ ترکی ہے کہ باجی بہن کو کہتے ہیں۔

پھپھٹ ہائی ہے = تھوڑی بات کو زیادہ کرنے والی بمعنی قصبہ

دلال مشتری، محاورہ اہل پنجاب کا ہے۔

پگڑی والا = حکیم۔ رات کو اور صبح کو شگون بد جان کر نام نہیں لیتے ہیں، پگڑی والا کہتےہیں۔

تیرے کارن =تیرے باعث، یہ اہل پنجاب کا محاورہ ہے۔

تختی =  سینہ اور کمر اور بازو کو کہتےہیں۔

جیا =اسے کہتے ہیں کہ جو دودھ پلائی ہو، یا جسے بجائے دودھ پلائی دائی کے جانتے ہوں۔

جھل بچھی = خواہش شہوانی

چریاک ہے = یعنی زباں دراز فریبی ہے۔

ددا  = اس کو کہتےہیں کہ جس لونڈی کی گود میں پرورش پاتے ہیں

رسی = عورتیں سانپ کو رات کے وقت رسی کہتی ہیں۔

روٹی اٹھائی = قرآن شریف اٹھایا۔ یہ لفظ ادب سے اور ڈر سے بولتے ہیں بلکہ بیشتر جو ناپاک ہوتی ہیں تو وہ اس طرح سے کہتی ہیں۔

شاہ کمیلی کا تکیہ = شاہ جہان آباد  میں حضرت قطب صاحب کی درگاہ میں ایک تکیہ ہے کہ وہاں اکثر بیگمات عرس میں جاتی ہیں اور وہاں کی فقیرنی کہ امیر زادی تھی اور وہاں فقیر ہو کر بیٹھی تھی اس کا نام شاہ کملی تھا۔ جن دنوں میں کمال ضعیف تھی بندہ نے بھی اس کو دیکھا ہے۔ مدام پوشاک بہت ستھری پہنتی تھی نہایت پاک اور پاکیزہ رہتی تھی اور مکان کو بھی حد سے زیادہ صاف اور شستہ رفتہ رکھتی تھی اور خود بھی با وجود اس ضعیفی کے نہایت خوب صورت تھی۔

مرداری = چھپکلی

ہیئنگو = بلی کو کہتے ہیں اور بیشتر نکٹی بھی کہتے ہیں یعنی رات کو چلے ( ممکن ہے چلتے  میں لکھا  ہو)  میں اس کا نام نہیں لیتی ہیں۔

اوگٹتی ہے = جو بات نہیں کہنے کی اسے مکرر کہتی ہے۔

اندر والا نہیں سمجھتا = جی نہیں مانتا ہے

اوشغلا اٹھایا = یعنی طوفان اٹھایا

آتون جی = پڑھانے والی کو کہتےہیں۔

الاچی ، دوگانا،   زناخی ،  دوست ،  سہ گانہ اور گئیاں= یہ سب ایک معنی رکھتے ہیں۔ الاچی اس کو کہتے ہیں جو الاچی کے دانے؛ باہم دیگر کھاتے ہیں، اور دوگانا وہ کہ جو بادام توام کو ایک ایک کھا کر دوگانا ہوتی ہیں، اور زناخی اس کو کہتے ہیں کہ سینہ مرغ میں سے ایک ہڈی نکلتی ہے اس کو توڑ کر باہم زناخی ہوتی ہیں۔ دوست بھی اسی معنی میں آتا ہے۔ سہ گانہ اسے کہتے ہیں کہ جو دوگانہ کی دگانہ ہوتی ہے اگرچہ کمال محل رشک ہوتاہے لیکن یہ پاس خاطر دوگانہ کے اس کو سہگانہ کہتےہیں؛  اور گوئیاں اصطلاح پورب کی ہے یہ لفظ اگرچہ اردو میں ٹکسال باہر ہے اور بیگمات کے نزدیک بھی معیوب ہے لیکن حال میں ازراہ تمسخر کے اکثروں کی زبان پر آجاتا ہے۔ مگر ان سب باتوں سےمراد یہ ہے کہ اکثر باہم چپٹی کھیلنے والیوں کے یہ رشتے ہوتے ہیں۔

بیٹھک = اچھا ستھرا فرش کرتی ہیں اور نہا دھو کر اس پر بیٹھتی ہیں اور میاں شیخ سدو یا میاں  شاہ دریا یا سکندر شاہ یا زین خاں یا ننھے خاں یا پریاں یا بی بچھڑی ان کے سر پر آتی ہیں۔ (اس سلسلے میں فرہنگ کے آخر میں لکھا ہے: شیخ سدو میاں زین خاں، میاں صدر جہاں، ننھے میاں، چہل تن، شاہ سکندر، ساتوں پریاں یعنی  لال، سبز، سیاہ، زرد،  دریا، اور آسمان پری اور  نور پری۔ ان سب کو بہت مانتی ہیں اور اپنا ہادی اور رہنما جانتی ہیں۔ لیکن میاں شاہ دریا اور شاہ سکندر اور ساتوں پریاں سب کے حق میں یہ کہتی ہیں کہ یہ  سب بھائی بہن ہیں ان کو جنت سے حق سبحانہ تعالیٰ نے حضرت خاتون کے ساتھ کھیلنے کو بھیجا تھا کہ خدمت کیا کریں۔ ان کی لونڈیاں اور غلام ہیں۔ پس اس سبب سے ان کو ان سب سے افضل سمجھتی ہیں بلکہ میاں شاہ اور سکندر شاہ کو بیشتر نوری شہزادہ کہتی ہیں یعنی ان کی خلقت نور سے ہے۔ فقط: لاحول ولا قوت الا باللہ العلی العظیم۔)

بغل کا گھونسہ = دشمن

دو جی سے ہے = یعنی پیٹ سے ہے۔

 

یہ کتابچہ دیوان کے رنگ پر مرتب ہے، یعنی  کلام ردیف’ الف’ سےشروع ہو کر  ‘ی’  پر ختم ہوتا ہے ۔ اسی میں ‘غزل ‘کے عنوان سے غزلیں بھی ہیں۔  دیگر اصناف میں  فرد اشعار، رباعیات، قطعات، خمسے، قصیدہ، اورمثنوی۔ اسی طرز پر دیوان انشا بھی ہے، البتہ اس کے آخر میں کچھ پہیلیاں بھی دی گئی ہیں۔

حق یہ ہے کہ اس کتاب میں لچر اور بیحودہ گفتگو بے حد ہے۔ یہاں تک کے فحش ہے۔ ایک نظم ہے جس میں جنسی عمل عورت  بہ عورت اور مرد بہ عورت ذکر ہوا ہے۔ غالباًیہی وجہ ہے کہ ناقدین اسے ناپسندیدہ کلام قرار دیتے ہیں۔  البتہ میں یہ ضرور کہوں گا کہ اگر اس قسم کا مواد نہ موجود ہوتا تو ہم تک وہ گفتگو جو ایک خاص قماش کے لوگ کیا کرتے تھے نہ پہنچتی ۔ یہ کلام یقناً اردو پر تحقیق کرنے واے طالبعلموں کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہوگا۔ جو لچر پن ہے اور جس پر ناقدین کو اعتراض ہوگا وہ اس کلام سے ظاہر ہے، کچھ نمونے ملاحظہ کیجیے:

بھاتا نہیں ہے مجھ کو گنواری ازاربند٭جاکرددا ، وہ لچھے کا لاری ازارباند

جاتاہے پھول والوں کے میلے میں وہ جیا٭چنپا کا میں وہ پہنوں گی بھاری ازاربند

ہمسائی پر یہ وقت پڑا ہے کہ تیس دن ٭بن  بن کےبیچتی ہے بچاری ازار بند

ڈھیلی گرہ لگائوں تو انا یہ کہتی ہے ٭آیا نہ باندھنا تجھے واری ازار بند

باندھوں جو کھینچ کر تو وہ کہتی ہے یہ مجھے ٭کیا کس کے باندتی ہے تو پیاری ازاربند

رنگین قسم ہے تیری ہی، ہوں میلے سرسے میں ٭مت کھول کر کے منت و زاری ازار باند

غزل

یہ میرے یار نے کیا مجھ سے بیوفائی کی ٭ملے نہ پھر  کبھی جس دن  سے آشنائی کی

اب اس کے عشق نے کیا کم کیاتھا مجھ سے سلوک ٭ستایا تونے خدا،  ہت تری خدائی کی

میں تیرے واری نصیحت نہ کر مجھے باجی ٭تجھے بھی یاد ہے بکواس سب خدائی کی

پھنسا دیا مجھے رنگیں کے دام  میں ناحق ٭کٹے الہٰی کرے ناک میری دائی کی

کلام انشا

اپنا جو جتاتا ہو ہمیں زور نگوڑا ٭ صدقے اسے کرڈالیے دوراور نگوڑا

سوتی تھی مزے میں  کہ گئی نیند اچٹ ہائے ٭کیا جانیے کیسا یہ ہوا شور نگوڑا

میں چیخ پڑوں کیوں نہ جو لے چٹکی میں اپنے ٭ڈالے مسل انگلی  کی مری پور نگوڑا

ہمسائی میں کونبھل ہوئی کل رات کو انشا ٭گھس اس کے زنانے میں گیا چور نگوڑا

 

 

کور بولا میں دغا کھاتا نہیں

ان دموں میں مطلقا آتا نہیں

پا گیا اے دوست میں مطلب ترا

یعنی میں دوں پھینک اور تو لے اثھا

کور تھا اس گفتگو کے دھیان میں

سانپ نے کاٹا اسی کی ران میں

زہر کا رنگیں اثر اس کو ہوا

کاٹتے ہی اس کے وہ اندھا موا

ڈھونڈتا اس کو جو وہ ہر جا گیا

سانپ اس کے ہاتھ میں اک آگیا

خوب جو نرمی پے اس کی غور کی

جی میں سمجھا ہے یہ قمچی اور کی

اس سے اس قمچی کو اچھا جان کر

دل میں بولا اس کا نہ تو ارمان کر

روشنی جس دم ہوئی واں روز کی

تب پڑی اس پر نظر دلسوز کی

دیکھتے ہی  اس کے وہ اٹھا پکار

مار تیرے ہاتھ میں ہے اس کو مار

رنگین کی ایک نظم جو مجھے اسکول کے زمانے سے یاد ہے۔ اس کا عنوان البتہ میں بھول چکا ہوں:

ایک اندھا بس کہ بینا کاتھا یار

ربط تھا دونوں میں باہم بیشمار

ایک  شب یکجا  سفر ان کو ہوا

ساتھ اس بینا کے وہ اندھا ہوا

تھی پرانی قمچی اک اندھے کے پاس

کچھ سفر کرنے کی جس سے تھی نہ آس

یک بیک ڈورا گیا قمجی کا ٹوٹ

اور قمچی جا پڑی اندھے سے چھوٹ

 

جب تل گئی لڑائی ترازو کے تول میں

باٹوں سے باٹ ٹوٹے، دھڑوں سے دھڑے لڑے

انشا یہ دیدے اپنے بھی اس دھوم دھام میں

دیدوں سے ایک شخص کے ہو کر کڑے لڑے

لڑکوں سے لڑکے چمٹے جوانوں سے سب جواں

بڈھوں سے بڈھے، کڑبڑوں سے کڑبڑے لڑے

چیوٹوں سے چیونٹے گتھ پڑے چیونٹیوں سے چیونٹیاں

بیٹھوں سے بیٹھے لپٹے، کھڑوں سے کھڑوں سے کھڑے لڑے

حقوں سے حقے چلموں سے چلمیں بھی ٹوٹیاں

نیچوں سے نیچے، گڑگڑوں سے گڑ گڑے لڑے

انشا  کی ایک دلچسپ نظم جو دیوان ریختہ میں شامل ہے:

کل ایک گھر میں خوب سے چھوٹے بڑے لڑے

ہاتھوں سے ہاتھ اور کڑوں سے کڑے لڑے

چھلنی سے چھاجھ چھاجھ سے چھلنی الجھ گئی

مٹکوں سے مٹکے ٹوٹے، گھڑوں سے گھڑے لڑے

اس سلسلے میں مزید معلومات کے لیے یہ دو وبگاہیں دیکھی جاسکتی ہیں:

https://rekhta.org/ebooks/saadat-yar-khan-rangeen-dr-sabir-ali-ebooks?lang=Ur

https://rekhta.org/ebooks/deewan-e-rangeen-insha-ebooks?lang=Ur

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 7 posts and counting.See all posts by yemeen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *