افغان امن مذاکرات اور پاکستان

تحریر: ایمل خٹک 
اگر ایک طرف  افغان امن مذاکرات کیلئے جاری سفارتی کوششوں میں تیزی سے پرُ امیدی بڑھ گئی ہے تو دوسری طرف ناامیدی کے علامات بھی ھیں۔ مسلے کے فریقین افغان حکومت اور پاکستان ایک طرف جبکہ امریکہ اور پاکستان دوسری طرف اسٹک اور کیرٹ کا کھیل بھی آپس میں کھیل رئے ھیں۔ افغان امن مذاکرات کے حوالے سے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی سے اگلے راؤنڈ میں کسی پیش رفت یعنی طالبان اور افغان سرکاری وفد کی برائے راست مذاکرات اور فائر بندی کا امکان بڑھ رہا ہے ۔  پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی چار ملکی دورے پر ھیں اور باتوں کے علاوہ وہ افغانستان ، روس ، چین اور ایران کو افغان امن مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کے بارے میں اعتماد میں لیں گے ۔
اگر دارالحکومت کابل میں حالیہ دھماکہ طالبان کی جانب سے اپنی طاقت کا مظاھرہ تھا تو دوسری طرف دو طالبان مخالف اور پاکستان کے بارے میں مخصمانہ جذبات رکھنے والی شخصیات امر اللہ صالح اور اسد اللہ خالد دونوں اتفاق سے افغان انٹیلی جنس کے سربراہ بھی رہ چکے ھیں بحثیت افغان وزیرِداخلہ اور وزیر دفاع کے تقرری افغان حکومت کی جانب سے بڑا اھم سگنل تھا جو افغان حکومت کی طالبان کی سرکاری وفد سے ملاقات سے انکار کے خلاف فوری ردعمل بھی تھا ۔
پہلی دفعہ ابوظہبی مذاکرات میں افغان طالبان کی اعلی ترین کمانڈروں کی شرکت اگر ایک طرف ایک خوش آئیند بات ہے مگر دوسری طرف افغان سرکاری وفد سے طالبان کی مذاکرات سے انکار نے ناامیدی پیدا کی ۔
پہلی دفعہ لگتا یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز اور افغان معاملات چلانے والے اداروں نے طالبان پر اپنا اثرورسوخ کسی حد تک استعمال کیا ہے اور انھیں امریکہ سے مذاکرات پر آمادہ کیا ہے ۔ امریکہ اور طالبان کی مذاکرات میں سعودی عرب ، متحدہ امارت اور پاکستان کے سفارتی نمائیندوں کی شرکت بہت اھم ہے کیونکہ طالبان حکومت کو ان تین ممالک نے رسمی طور پر تسلیم کیا تھا اور تینوں کا طالبان پر اب بھی کسی حد تک اثرورسوخ ہے ۔ اگر تینوں خلوص نیت سے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے تو بات آگے بڑھ سکتی ہے ۔
اگرچہ قیدیوں کے تبادلے ، طالبان کمانڈروں پر عائد سفری پابندیاں ہٹانے ، مخلوط یا عبوری حکومت کا قیام وغیرہ مسائل پر بھی بات چیت ھورہی ہے مگر افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء کے ٹائم ٹیبل کا اعلان، جنگ بندی اور طالبان اور افغان حکومت کی برائے راست بات چیت وہ اھم نکات ھیں جس پر اتفاق رائے نہیں ہے اور فریقین کو مذاکرات کو کامیابی سے ھمکنار کرنے کیلئے اس سلسلے میں کسی نتیجے پر پہنچنا اور اتفاق رائے پیدا کرنا ہے ۔  خدشہ یہ ہے کہ ماضی کی طرح دوبارہ مختلف حلقے بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر طالبان کے فیصلوں پر اثرانداز ھونے کی کوشش کر رہے ھیں ۔
جس طرح اس حقیقت سے انکار نہیں کہ طالبان کے بغیر کوئی بھی امن مذاکرات کامیاب نہیں ھونگے اس طرح افغان حکومت کے بغیر بھی مذاکرات کامیاب نہیں ھوسکتے ۔ افغان حکومت اور طالبان مسلے کے دو اھم داخلی فریق ھیں ۔ طالبان کو جلد یا بدیر یہ حقیقت تسلیم کرنی ھوگی ۔ افغان حکومت کی عدم شرکت علاقائی اور عالمی قوتوں کے مسلے کے حل کیلئے بین الافغانی مذاکرات کے بیانیے کی نفی ہے ۔  اسلئے مذاکرات کی کامیابی کیلئے دونوں افغان فریقوں یعنی حکومت اور مسلح مخالفین کو مذاکرات کی میز پر مل بیٹھنا ھوگا۔
امریکہ برائے راست اور بعض دوست ممالک خصوصا سعودی عرب اور متحدہ امارات کے زریعے پاکستان اور طالبان پر امن مذاکرات اور افغان حکومت سے بات چیت کیلئے دباؤ ڈال رہے ھیں۔ سعودی عرب ترکی میں سعودی سفارتخانے میں سعودی صحافی خالد خشوگی کی ھلاکت کے بعد شدید سفارتی مشکلات کا شکار ہے اور اس مسلے پر ٹرمپ انتظامیہ کی کھلم کھلا یا دبے الفاظ میں حمایت سے سعودی عرب پر سفارتی دباؤ کم ھونے میں مدد ملی ہے۔ سعودی شاہی خاندان کی امریکہ نوازی اور فرمانبرداری میں اضافہ ایک قدرتی امر ہے ۔
سعودی عرب کو متحرک کرنے کیلئے افغان امن مذاکرات کے حوالے سے ماضی قریب تک سر گرم عمل دو اھم ممالک قطر اور ترکی پس منظر میں چلے گئے ھیں ۔ جہاں تک قطر کا تعلق ہے تو اس حوالے سے اس کی  ناراضگی کی اطلاعات بھی ھیں ۔ ان دونوں ممالک کے علاوہ افغانستان کی تعمیر نو اور آبادکاری کیلئے سب سے زیادہ امداد دینا والے ملک انڈیا کو بھی مذاکرات کے حوالے سے آن بورڈ کرنے کی ضرورت ہے ۔ افغان مسلے کی دیرپا اور مستقل حل کیلئے تمام علاقائی اور عالمی قوتوں کو اعتماد میں لینے اور وسیع افہام و تفاھم کی ضرورت ہے ۔ کسی بھی علاقائی قوت کو باہر رکھنے یا اعتماد میں نہ لینے کے نقصانات زیادہ جبکہ فائدہ کم ھوگا۔
ماضی قریب کے برعکس جب امریکہ نے افغان مسلے کے حل کیلئے روس اور ایران کی کوششوں کو شک کی نظر سے دیکھا اب امریکہ روس ، ایران اور چین سے مثبت کردار کی توقع کررہا ہے۔  اور زلمے خلیل زاد کی حالیہ سفارتی کوششوں کے بعد امریکہ کی رویئے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے ۔  دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ کی شام سے فوج انخلاء کے اعلان کے بعد  امریکہ کی روس اور ایران کے ساتھ افغان امن مذاکرات کے حوالے سے تعاون کے امکانات بڑھ گئے ھیں ۔ روس، چین اور ایران اپنے اپنے داخلی مسائل اور سٹرٹیجک مفادت کی وجہ سےافغان امن مذاکرات کو کامیابی سے ھمکنار دیکھنا چاہتے ھیں۔  ایرانی اعلی حکام کی افغان طالبان سے رابطے اور اس کے بارے میں افغان حکومت کو اعتماد میں لینے کی کوشش خیرسگالی کا اظہار ہے ۔
پاکستان کی عسکریت نواز پالیسیوں کی اندرون ملک اور بیرون ملک مخالفت بڑھ گئی ہے ۔ اندرون ملک تقریبا تمام مین سٹریم سیاسی جماعتیں ملک میں دہشت گردی کے خاتمے اور علاقائی تعاون و ترقی اور امن کیلئے داخلہ اور خارجہ پالیسیوں پر نظرثانی اور قبلہ درست کرنے کی حامی ھیں ۔ناعاقبت اندیش داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے جو سویلین کی بجائے وردی پوش اسٹبلشمنٹ بناتی اور چلاتی ہے ملک تقریباً تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے ۔ بہت سے آزاد اور غیر جانبدار تجزیہ نگار ملک میں بڑھتی ھوئی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے تناظر میں افغان طالبان کو اب ملک کیلئے قیمتی اثاثے کی بجائے ایک بوجھ سمجھتے ھیں۔
 مگر پالیسی ساز اپنی غلط پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی لانے سے اجتناب برت رہے ھیں اور کاسمیٹک اقدامات کا سہارا لینے کے ساتھ ساتھ اختلاف رائے کو کنٹرول اور دبانے کیلئے بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیاں سلب کرنے اور سیاست میں ننگی مداخلت کی طرف مائل ہے۔  جس سے حالات مزید خراب اور معاملات ریاست کی کنٹرول سے باہر ھورئے ھیں جوں جوں حالت پر ریاست کی گرفت کمزور ھوتی جارہی ہے تو ساتھ ہی اظہار رائے اور تقریر اور تحریر کی آزادی سلب کرنے کی کوششوں میں بھی تیزی آرہی ہے ۔ عوامی غم وغصے کا اظہار ریاستی اداروں اور شخصیات کے خلاف نعرہ بازیوں میں اضافے سے بھی ھورہا ہے ۔ پولیٹکل انجیرنگ نے کئی ریاستی اداروں کی ساکھ کو داؤ پر لگادیا ہے اور عوام اور اداروں میں دوریاں بڑھ رہی ھیں۔
یہ پاکستان کی عسکریت نواز پالیسیاں ھیں جس پر دوست اور دشمن دونوں ممالک کھلم کھلا یا دبے الفاظ میں تنقید کررہے ھیں ۔ پاکستان کی سفارتی تنہائی کی ایک اھم وجہ یہ عسکریت نواز پالیسیاں بھی ھیں ۔ ماضی قریب میں بہت سے اھم علاقائی اور بین القوامی فورمز پر جب علاقے میں دہشت گردی کے حوالے سے بات ھوتی تھی تو پاکستان کے قریب ترین دوست پاکستانی موقف کی بجائے دنیا کے ساتھ کھڑی نظر آتی تھی ۔ یہ اور بات ہے کہ پاکستانی پالیسی ساز یا تو خواب خرگوش کے مزے لوٹتی رہی اور یا اپنی خوش فہمیوں اور غلط فہمیوں کا شکار ۔
ٹرمپ انتظامیہ کی افغان مسلے کے حوالے سے سخت پالیسی جس میں سفارتی دباؤ بڑھانے کے ساتھ اقتصادی اور فوجی امداد کی بندش بھی شامل ہے نے معاشی طور پر بدحال پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے ۔ پاکستان کی سفارتی تنہائی بڑھی ہے اور امریکہ کے علاوہ دیگر مغربی ممالک کی جانب سے بھی تعلقات میں سرد مہری کا اظہار ھورہا ہے ۔ اسٹبلشمنٹ کی بلند بانگ دعوے ایک طرف مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی فوجی اور اقتصادی امداد کے بغیر پاکستان کی معاشی اور فوجی مشکلات بڑھ رہی ہے ۔ ساٹھ سالوں میں پروان چڑھنے والی امریکی غلامی کی ذھینت سے بھی پالیسی سازوں کا چھٹکارا پانا مشکل ہے ۔
آیا پاکستان کی عسکریت نواز پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لائی جارہی ہے کہ نہیں اس بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہے مگر طالبان نواز مولانا سمیع الحق کی پرسرار حالات میں ھلاکت ، گالیاں بکنے اور دشنام درازی کیلئےمشھور مولانا خادم رضوی کی گرفتاری اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا عسکریت نواز پالیسی میں تبدیلی کے اشارے ، طالبان پراجیکٹ کو وائینڈ اپ اور اس کو اھم مغربی دارلحکومتوں میں مارکیٹ کرنے کی کوشش ہے ۔  اگرچہ خادم رضوی کو فوجی سربراہ کے خلاف بیان پر گرفتار کیا گیا ہے ۔ مگر توھین رسالت کے مسلے کے پس منظر میں اور بیرونی حساسیت کے پیش نظر مغربی ممالک کی خوشنودی حاصل کرنے کا یہ ایک سہنری موقع بھی تھا ۔
افغان امن مذاکرات کی اگلے راؤنڈ سے اندازہ لگ جائیگا کہ آیا فریقین خاص کر طالبان امن کے قیام کیلئے واقعی مخلص بھی ھیں کہ وہ تاخیری حربوں سے کام لے رہے ھیں اور فوجی دباؤ کو بڑھانے کیلئے مذید وقت لینا چاہتے ھیں ۔ آیا پاکستان کی عسکریت نواز پالیسیوں میں واقعی تبدیلی آرہی ہے یا ماضی کی طرح دنیا کی آنکھوں میں دھول جونکنے کی ناکام کوشش ھورہی ہے ۔ اب تاخیری حربوں اور دھول جونکنے کا وقت گزر چکا ہے اب دنیا ٹھوس نتائج دیکھنا چاہتی ہے ۔
 چاہے کوئی اس حقیقت کو مانے یا نہیں کہ دنیا اب بھی  پاکستان کو طالبان کا سب سے بڑا حمایتی سمجھتی ہے اور اگر پاکستان خلوص نیت سے چاہے تو افغان امن مذاکرات آگے بڑھ سکتے ھیں ۔ عالمی رائے عامہ کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں اس کے ذمہ دارطالبان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پالیسی سازوں کو بھی ٹہرایا  جائیگا ۔

Aimal Khattak

The author is a political commentator mainly covering socio-political and peace issues. He frequently comments on regional issues, especially Afghanistan. Aimal Khattak can be contacted at: aimalk@yahoo.com

aimal has 85 posts and counting.See all posts by aimal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *