آسیہ بی بی کی آزادی

تحریر: یمین الاسلام زبیری

اکتیس اکتوبر کا دن تھا۔ پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر دستخط کردیے تھے۔ آسیہ بی بی وہی جو ۲۰۱۰ سے قید خانے میں پڑی پھانسی کے پندے کا انتظار کر رہی تھی۔ پاکستان میں جہاں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ سلوک کی تاریخ کچھ اچھی نہیں یہ ایک تاریخ ساز، ایک سنگ میل کی حیثیت رکھنے والا فیصلہ تھا۔

اس فیـصلے کے آنے کے فوراً ہی بعد مذہبی انتہاپسند سیاسی و مذہبی جاعت تحریک لبیک پاکستان کے جھنڈے تلے جمع ہو کر ملک گیر پیمانے پر سڑکوں پر نکل آئے اوراحتجاج کرنے لگے۔ اس احتجاج کو کئی دن گزر گئے، اور بالآخرپی ٹی آئی کی حکومت ان مظاہرین سے ایک معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس معاہدے میں ان احتجاجیوں کو جو آسمہ کو ہر صورت میں لٹکا ہوا دیکھنا چاہتے تھے، دل کھول کر مراعات دی گئیں۔ دوسری طرف اسلام آباد اس بات پر بھی راضی ہوگیا کہ آسمہ بی بی کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وہ پاکستان میں ہی رہے گی گو اس کی زندگی کو یہاں خطرہ لاحق موجود ہے۔

اپنے احتجاج کے دوران تحریک لبیک کے تمام مذہبی کارکنان بد امنی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے اور توڑ پھوڑ میں مصروف رہے۔ یہ جماعت اپنے ارکان کو جان دینے پر اکساتی ہے اور اس کا نعرہ ہے، ’توہین رسالت والا موت کے حقدار ہے۔‘

شروع میں وزیر اعظم عمران خان نے سخت رویہ دکھایا اور اس سلسلے میں اپنی تقریر میں صاف کہا کہ یہ احتجاج نا قابل قبول ہے، اور یہ ہرگز بھی اسلام کی خدمت نہیں ہے۔

عمران کی سخت بات کرنا سمجھ میں آتا ہے کیوںکہ یہ مظاہرین ججوں کے قتل کی بات کر رہے تھے اور پاکستانی افواج کے سپاہیوں کو بغاوت پر اکسا رہے تھے۔ البتہ عمران اپنی بات نہ رکھ سکے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ پاکستان کی ریاست یہ سمجھتی ہے کہ تحریک لبیک کو دبانے کی کوشش میں وہ اسے اور مقبول کردے گی، اور اس قسم کے اقدام کے نتائج صورتحال کو اور ابتر کر دیں گے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلے بھی مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے نتائیج کچھ اچھے نہیں رہے۔ مثلاً ۲۰۰۷ میں مشرف نے لال مسجد کے خلاف کارروائی کی اور ہم سب اس کے نتائیج سے واقف ہیں۔

ایک بات اور بھی ہے وہ یہ کہ تحریک لبیک سے جھگڑا مول لے کر تحریک انصاف سیاسی نقصان اٹھا سکتی ہے کیوںکہ تحریک لبیک جو ہے وہ تحریک انصاف اور پاکستانی فوج کی حمایئتی بھی ہے۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کو بہت سے ایسے لوگ بھی پسند کرتے ہیں جن کا جھکائو مذہبیت کی طرف ہے۔

مزید یہ کہ تحریک لبیک کے پچھلے دھرنے نے نواز شریف کی حکومت کو زیر بار اور کمزور کردیا تھا، جو کہ تحریک انصاف اور فوج دونوں کی خواہش کے عین مطابق تھا ۔ لبیک کے دھرنے کے فوراً بعد ہی عمران  نے کہا تھا کہ اس کی پارٹی کے لوگ اُس دھرنے میں شریک ہونے کے لیے تیار تھے۔ خیال رہے کہ تحریک لبیک نے آخری انتخابات میں کوئی دو ملین ووٹ بھی لیے ہیں، جس سے یقیناً ’ن‘ کو ہی دھچکا لگا ہے۔

سی این این کا تبصرہ ہے کہ پچھلے ہفتے تحریک لبیک نے جس طرح ریاست کو دھمکیاں دی ہیں اس سے پتا لگتا ہے کہ وہ فرنکسٹائین کا بھوت بنی جارہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک اور مثال ہے کہ پاکستان کی ریاست کا ایک ’اثاثہ‘ کس طرح اس کی مخالفت پر اتر آیا ہے۔ یہ کوئی اچھی مثال نہیں۔

حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی حکومت اور فوج دونوں تحریک لبیک کی مخالفت مول نہیں لے سکتے۔

یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نواز شریف کو اپنے وزیر قانون کو تحریک لبیک کی ایما پر حکومت سے نکالنا پڑا تھا۔ اسی طرح عمران خان کو پرنسٹن یونیورسٹی کے معیشت دان جو مشیر کی حیثیت سے کام کرنے آئے تھے ہٹانا پڑا۔

کچھ نہ کرنے کی پالیسی کے نتائج یقیناً کچھ اچھے نہیں ہونگے۔ جب تک اسلام آباد سختی کی پالیسی نہیں اپنائے گا وہ انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں کھلونا ہی بنا رہے گا۔ اور اب ان عناصر کا انتخابات کے ذریعے قومی دھارے میں آجانے سے ان کا نفرت انگیز رویہ پاکستانی سماج میں تیزی سے سرایت کرنے لگا ہے۔ پاکستانی سماج پہلے ہی اسکولوں کے زہریلے نصاب، مذہبی رہبروں کے بیانات، اور ماس میڈیا کے مواد سے زہر آلود ہے۔

تمام مایوس کن خبروں میں یہ بھی ایک خبر ہے کہ ایک اسکول کا بچہ جو کیلے بیچ کر اپنا اور گھر والوں کا پیٹ پالتا تھا اس کا ٹھیلا مظاہرین نے لوٹ لیا تھا۔ لیکن جب رپورٹر اس بچے سے ملنے اس کے گھر گئے تو اسی وقت درجنوں موٹرسائکل سوار ڈنڈے لے کر آگئے اور یہ انٹرویو نہیں ہو سکا۔ بعد میں انہی رپورٹروں نے خبر دی کہ وہ ٹھیلا لوٹا نہیں گیا تھا بلکہ ایک مخیر نے سارا ٹھیلا خرید کر احتجاجیوں میں بانٹ دیا تھا۔ مزید یہ کہ حکومت پنجاب نے توڑ پھوڑ کرنے والے مظاہرین جن کے خلاف وڈیو اور تصاویر کے ثبوت موجود ہیں ان کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کر دیا تھا، بقول پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان صاحب؛ اور وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ نظربندوں کے خلاف انضباطی کارروائی کی جارہی ہے۔ لیکن تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان پیرزبیر احمد کہتے ہیں، ’ہم نے کل جو انتباہ کیا تھا کہ اگر یہ گرفتاریاں نہ رکیں تو ہم دوبارہ مظاہرے شروع کردیں گے۔ تو اس کا اثر یہ ہوا کہ حکومت پنجاب سے ہمارے رات گئے چار گھنٹے تک مزاکرات ہوئے، جس میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اور اے آئی آئی جی اظہر حمید صاحب نے حکومت پنجاب کی طرف سے حصہ لیا۔ اور طے یہ پایا کہ مزید گرفتاریاں روک دی جائیں۔ اور پہلے سے گرفتار لوگوں کو رہا کرنا شروع کردیا جائے۔‘

تحریک لبیک کے ترجمان کے اگلے بیان میں ’اجازت‘ کا لفظ دلچسپی سے خالی نہیں، انہوں نے کہا کہ، ’تحریک لبیک نے صرف شرپسندوں کی گرفتاریوں کی اجازت دی تھی، مگر اس کے پردے میں ہمارے کرکنوں پر بھی ہاتھ ڈالا جا رہا ہے۔‘

تازہ ترین خبر یہ ہے کہ آسیہ بی بی ملک چھوڑ کر یورپ روانہ ہو چکی ہے۔

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 7 posts and counting.See all posts by yemeen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *