میڈیا پر حملے برداشت نہیں

پروگرسو پاکستان الائنس (پی پی اے) نے پاکستان میں میڈیا پر حملوں کی شدید الفاظ میں مزمت کی ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں جاری ہونے والی پی پی اے کی ایک پریس رلیز کے مطابق، ان دنوں صحافیوں پر حملوں اور تشدد کی جو ایک لہر آئی ہوئی ہے پی پی اے اس کی نہایت سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ پی پی اے ایک رضاکار تنظیم ہے اور اس کے ارکان سارے امریکہ کے تقریبا ہر کونے میں موجود ہیں۔

پی پی اے نے یہ بیان ڈان کے اسسٹنٹ ایڈیٹر اور کالم نگار سرل المیڈا پر حالیہ مقدمے کے پس منظر میں جاری کیا ہے۔ سرل المیڈا کی گرفتاری کے احکامات ان پر غداری کا الزام لگا کر جاری کیے گئے۔ ان کی نقل و حمل پر پابندی ان کو تین بار وزیر آعظم چنے جانے والے نواز شریف کے انٹرویو سے روکنے کے لیے لگا دی گئی۔

سرل المیڈا اور نجم سیٹھی، دونوں صحافیوں پر غداری کا الظام لگانا، پی پی اے کے مطابق، ’’ صحافیوں کو دہشت زدہ کرنے اور صحافت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔‘‘

بیان میں مذید کہا گیا ہے، ’’یہ زباں بندی صرف صحافیوں تک ہی محدود نہیں ہے؛ مختلف جامعات کے پروفیسر ’ممنوعہ‘ عنوانات پر بات کر نے پر سلامتی کی ذامن انتظامیہ کی طرف سے اس قسم کے حملوں کی زد میں آ چکے ہیں۔ ایسا کرنے سے اعلی تعلیم سے تنقیدی فکر مزید محدود ہو جائے گی، اور یہ پاکستان کی اعلی تعلیم کی پہلے ہی سے ابتر صورتحال کو مزید انحطاط کا شکار کردے گا۔‘‘

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ، ’’پاکستان میں ریاست نے اپنے نور نظر لوگوں کے تحفظ کی خاطر عدم برداشت کی نئی حدود وضع کردی ہیں۔‘‘

پی پی اے نے پاکستان کی بااختیار سیاسی و فوجی قیادت کو متنبہ کیا کہ بیرون ملک پاکستانی اپنے آپ کو شائستہ معاشرے، سوشل میڈیا کے سرگرم ارکان، بلاگروں، صحافی اور جامعات کے پروفیسروں پر ہونے والی ذیادتیوں سے خود کو الگ تھلگ نہیں رکھ سکتے۔ صحافت پر قدغن لگانا ملک کے ضمیر کی آواز کا گلا گھوٹنے کے مترادف ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ، پی ٹی آئی کی نئی حکومت بننے کے بعد مخصوص خبری چینلوں اور میڈیا گروہوں پر عطاب کے بعد میڈیا پر حملوں کی صورتحال میں مذید بگاڑ آیا ہے۔

پی پی اے کا کہنا ہے کہ ایک ’آزاد صحافت‘ کی غیر موجودگی میں جمہوریت کھوکھلی رہ جاتی ہے۔ ’’پاکستان کے عوام نے اپنے ماضی میں کبھی آمریت کو قبول نہیں کیا تھا، اور وہ صحافت پر پابندیوں اور صحافیوں پر سزائوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوںگے۔ ہماری اسوسی ایشن پاکستانی فوجی انتظامیہ، نئی حکومت اور عدالت کی میڈیا کو ہراساں کرنے کی کوششوں کی مذمت کرتی ہے۔‘‘

پی پی اے اپنے مطالبہ میں کہتی ہے کہ، سرل المیڈا اور نجم سیٹھی کے خلاف غداری کے مقدمات واپس لیے جائیں، اور میڈیا پر ہونے والے حملوں کو بلا تاخیر ختم کیا جائے۔ صحافیوں، بلاگروں، سوشل میڈیا و گروہی سرگم لوگوں، اور جامعات کے پروفیسروں کے اغوا اور ان پر تشدد کو فوری روکا جائے۔ پی پی اے پاکستانی میڈیا کے ساتھ اس کی آزاد میڈیا کی جدوجہد میں قدم ملا کر ساتھ چلے گی؛ ساتھ ہی تعلیم کے میدان میں آزادی پر پابندیوں کی مذمت کرتی ہے۔ وہ تعلیم کی دنیا میں مکمل آزادی کا مطالبہ کرتی ہے۔

پی پی اے نے امریکی حکومت، کانگریس، اور کمیٹی برائے تحفظ صحافیان پر ذور ڈالا ہے کہ وہ اس صورتحال کو قابل اعتنا سمجھے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستانی حکومت اور حفاظتی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافیوں اور سماجی میڈیا کو ہراساں کرنا فورا بند کرے اور میڈیا پر سے قدغنیں ہٹائے۔

پی پی اے کا کہنا ہے کہ پاکستانی میڈیا نے حفاظتی انتظامیہ کی دبائو میں رکھنے والی حرکتوں کے پیش نظرایک طریقے سے اپنے اوپر خود پابندیاں عائد کر لی ہیں۔

انجمن کی نمائیندہ ڈاکٹر غزالہ قاضی کہتی ہیں کہ، ان کی انجمن پاکستانی حکومت کو بتا دینا چاہتی ہے کہ میڈیا پر حملے ہرگز بھی برداشت نہیں کیے جا سکتے۔

ترجمہ: یمین الاسلام زبیری

Dr. Asim Yousafzai

Dr. Asim Yousafzai is a Washington DC based geo-science professional and regularly writes on technical and geo-strategic issues. He is the author of the book “Afghanistan: From Cold War to Gold War”. He is also an AP editor. He can be followed @asimusafzai

asimusafzai has 15 posts and counting.See all posts by asimusafzai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *