گمنام شہریوں کا نوحہ

ایمل خٹک

پچھلے دنوں محترمہ پرنسپل بشیر النساہ شہید کی فاتحہ خوانی کے وقت میرا ذھن سوچوں میں گم تھا۔ اور پردہ سکرین کی طرح میرے ذھن کی سکرین پر ان بیگناہ اور معصوم شہریوں کی شکلیں یکے بعد دیگرے آ رہی تھی جو بےمقصد اور گمنامی میں مارے گے۔ جو یا تو سفاک طالبان کی گولیوں کا نشانہ بنے اور یا سیکورٹی فورسز کے گولیوں کی زد میں آکر مارے گئے۔ واقعی جنگ بے رحم اور تباہ کن ھوتی ہے۔ اکوڑہ خٹک ضلع نوشہرہ کی رہائشی پرنسپل صاحبہ کچھ دن پہلے عمرہ سے واپسی پر پشاور ایئرپورٹ کے قریب ایک چیک پوسٹ پر گولی کا نشانہ بنی تھی۔

ایک کٹر مسلم لیگی گھرانے میں پیدا ھونے والی پرنسپل جنہوں نے سالوں بےلوث قومی خدمت کی اور ھزاروں بچیوں کی مستقبل سنواری ھے۔ اور آج اس کو ایک بےمقصد شہادت نصیب ھوئی ۔ انکا نام بھی ان ھزاروں بے نام اور گمنام شہیدوں میں شامل ھوگیا جو نہ سمجھتے اور چاہتے ھوئے ایسے قومی مفادات اور پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ رہے ھیں جس کے مقاصد اور انجام سے اکثریتی عوام لاعلم ھے۔ گولی چلانے والے کی تربیت تو دشمن کو نشانہ بنانے کیلئے ھوتی ھے مگر یہ عام اور بیگناہ شہری کیسے نشانہ بن جاتے ھیں۔ سسٹم میں کوئی سقم موجود ھے جس کی وجہ سے وہ گولی جو دشمن پر چلائی جانی چائیے دوست یا عام شہریوں کو لگتی ھے۔ کہیں کوئی نہ کوئی غلطی ھے۔ صبر او برداشت کی بھی کوئی حد ھوتی ھے اور اب برداشت جواب دے رہی ھے۔ لیکن اس واقعے کے بعد مجھے یہ سوچ پریشان کررہی ھے کہ آخر یہ سلسلہ کبھی بند ھوگا بھی یا نہیں ۔

 اس واقعے کے بعد سے ایک نوحہ لکھنے کو جی چاہ رہا تھا۔ لیکن سوال یہ ھے کہ میں کس کا نوحہ لکھوں پرنسپل صاحبہ کا یا اپنے معاشرے کا۔ قانون کا نوحہ لکھوں یا آئین کا ، جنگ کا نوحہ لکھوں یا امن کا۔ لیکن نہیں آج میں نے شورش زدہ علاقوں کے شہریوں کا نوحہ لکھنا ھے۔ ان شہریوں کا جو اپنی ہی گولیوں سے چھلنی ھو رہے ھیں۔ وہ شہری جن کا خون ریت سے بھی سستا ھے۔ وہ شہری جو قدم قدم پر ذلیل و خوار ھو رہے ھیں یا لمحہ لمحہ مرتے اور جیتے رہتے ھیں ۔ وہ بے آواز اور بے بس شہری جو کسی بھی وقت لاپتہ ھو سکتے ھیں یا جس کی مسخ شدہ لاش کسی ویرانے میں پائی جا سکتی ھے۔ وہ شہری جو کسی بھی وقت نامعلوم افراد کے ھاتھوں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن سکتے ھیں۔ یا وہ شہری جو کسی بھی چیک پوسٹ پر ذلت یا گالی یا تھپڑ یا لات خاموشی سے سہنے پر مجبور ھے۔ وہ شہری جو کئی بار نقل مکانی پر مجبور اور بے گھر ھو چکے ھیں اور وہ شہری جو آزاد علاقے میں واپس جاچکے ھیں اور وہاں جنگی قیدیوں کی سی زندگی گزار رہے ھیں۔ جو آزاد شدہ علاقوں میں بھی آنے جانے کیلئے شاہی پروانہ لینے پر مجبور ھے۔ وہ شہری جو آپریشن میں تباہ شدہ اور کرفیو کے دوران لوٹ شدہ گھر کو دیکھ کر اُف تک نہیں کر سکتا۔ وہ شہری جو یا تو خاموشی سے بھتہ دینے پر مجبور یا تاوان کیلئے اغوا ھو چکے ھیں ۔ وہ شہری جو عسکریت پسندی کے ڈرامے کے تمام کرداروں اور وجوھات کو جانتے ھوئے بھی اصل کرداروں کا نام لینے سے قاصر ھے۔

یہ ان لاچار اور بے بس شہریوں کا نوحہ ھے کہ کوئی وکیل یا انسانی حقوق کا کارکن انکا کیس کرنے ، انکے حق میں آواز آٹھانے یا کوئی عدالت ان کی حالت زار پر سووموٹو ایکشن لینے کیلئے تیار نہیں۔ ایسے شہریوں کا نوحہ جن کے مسائل کا ذکر اور نشاندہی کرنے سے میڈیا بھی کتراتا ھے کیونکہ عمل قومی مفادات کے منافی اور سنگین غداری تصور کی جاتی ھے۔

وہ شہری جن کو مختلف دلال اور ٹاوٹ گرفتاری اور لاپتہ ھونے سے ڈرا دھمکا کر مختلف طریقوں سے لٹتے رہے ۔ ان خواتین کا جو اپنے لاپتہ پیاروں کی تلاش میں سرگرداں پھر رہی ھے یا ان کی رہائی کے بدلے عزتیں گنوانے پر مجبور ھیں ۔ یا وہ شہری جو کسی کی ذاتی پرخاش یا شرارت سے عقوبت خانوں میں جسمانی اور ذہنی اذیتیں برداشت کرنے پر مجبور ھیں۔ اور عدالتی داد رسی تو کجا ان کے کیسوں میں مروجہ قانونی طریقہ کار سے اجتناب برتا جاتا ھے۔

جنگ کی علم جنگجو شہری (combatants) اور عام شہری (non-combatants) میں واضع تمیز کرتی ھے جبکہ ھمارے ھاں یہ تمیز شاید کچھ مبہم ھے ورنہ اتنی بڑی تعداد میں شہری دھشت گردی کے خلاف جنگ میں ھلاک یا زخمی نہ ھوتے یا اتنی زیادہ collateral damage نہ ھوتی۔

شاید ھمیں دشمن ملک اور اپنے شہریوں کے ساتھ سلوک میں فرق کو بھی سمجھنے کی ضرورت ھے۔ شورش زدہ علاقوں میں سیکورٹی فورسز کے حوالے سے زیادہ شکایات موجود ھیں۔

اداروں کے اندر اپنا اپنا ایک چیک بیلنس اور احتساب کا سسٹم موجود ھے مگر پھر بھی قانون شکنی اور زیادتیوں کی شکایات عام ھے۔ بیگناہ شہروں کی مشکلات بڑھ رہی ھے حتی کہ شہری نشانہ بن رہے ھیں ۔ اس کا مطلب یہ ھے کہ یا تو شکایات کا نوٹس نہیں لیا جا رہا یا صرف نظر ھو رہی اور یا سسٹم کھوکھلے ھو چکے ھیں جس سے قانون شکن یا بے ظابطگیاں کرنے والوں کو فائدہ پہنچ رہا ھے اور مظلوم شہریوں کی داد رسی نہیں ھو رہی ۔ شورش زدہ علاقوں میں یا تو سویلین اداروں کو اختیارات مکمل طور پر منتقل نیں ھوئے اور یا بہت سی شکایات اور کیسوں کی آزادانہ تفشیش اور کاروائی نہیں ھو رہی۔

ھمارے ہاں یہ غیر تحریری قانون ھے کہ قتل صرف عام شہری کرتے ھے جبکہ وردی والے غلطی کرتے ھیں اور غلطی بھی اس وقت تسلیم کی جاتی ھے جب مرنے والوں کی کوئی پیروی کرتا ھے ورنہ تو عام لوگ بیچارے خوف اور ڈر کے مارے خاموش رہتے ھیں۔

دوسرا غیر تحریری قانون یہ بھی ھے کہ معاشرے میں ظلم و زیادتیوں اور غلط روایات اور رسموں کے خلاف آواز اٹھانا چونکہ ملک کی بدنامی کے مترادف ھے اس لئے ملالہ کا طالبان کی انسانیت دشمن اور تعلیم دشمن پالیسیوں پر لکھنا یا شرمین چنائی کا غلط رسومات کو اپنی دستاویزی فلموں کا موضوع بنانا یقیناً ملک دشمنی ھے کیونکہ ایسی حرکتوں سے ملک کی بدنامی ھو رئی ھے۔ اگر ایسے موضوعات پر لکھنا ملک دشمنی ھے تو پھر قومی اداروں کی ملکی قوانین کی دھجیاں اڑانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنا تو غداری کے سنگین جرم کے مترادف ھوگا۔ ایسی پست سوچ اور روئیے یقیناً معاشرتی پستی ، انسانی حقوق کی پامالی اور قانون کی عدم احترام کی عکاسی کرتی ھے۔

جب غلطیوں کی نشاندہی نہیں ھوگی غلطیوں کی سنگین اثرات اور نتائج پر بات نہیں ھوگی تو معاشرے میں حقوق کی پامالی اور قانون شکنی اور اسکو طاقتور حلقوں کی جانب سے قانون کو گھر کی لونڈی سمجھنے کے رحجانات کو تقویت ملی گی۔ اور معاشرے میں انصاف کا خون ھوتا رئیگا اور قانون کی دھجیاں اڑتی رہیگی۔انصاف کی حصول میں ناکامی یا تاخیر سماج میں باغیانہ سوچ اور رویوں کی پروان چڑھنے اور پھیلنے کی بنیادی وجوہات میں سے ایک اھم وجہ ھے۔

جنگ کی علم میں عسکریت پسندی کو بزور کچلنے کی گنجائش ھے مگر زور استعمال کرنے کے کچھ پیمانے اور اصول ھیں ۔ یہ تو کوئی جنگی امور کا ماہر ھی بتا سکتا ھے کہ زور کس تناسب سے استعمال ھونا چاہیے یا استعمال ھو رہی ھے مگر بعض کیسوں میں تباہی اور بربادی دیکھ کر یہ احساس ھوتا ہے کہ شاید زور تناسب سے زیادہ استعمال ھوا ھے۔ ماضی کی نسبت اب بھی شکایات ھیں مگر کم ۔ اب اس کی تعداد کم ھو رہی ھے۔ لوگوں کے ذھنوں میں بہت سے سوالات ھیں اور آج نہیں تو کل ان سوالات کے جوابات بھی آینگے۔ مثلاً کیا اتنی تباہی ناگزیر تھی یا انٹلیجنس کو بہتر بنا کے اور طاقت کا کم اور مناسب استعمال کرکے اس کو معقول حد تک کم کیا جاسکتا تھا۔ چیک اینڈ بیلنس ، مانیٹرنگ اور شکایات کی وصولی اور ازالے کے نظام کو بہتر اور شفاف بنا کر عوامی شکایات کو کم سے کم کیا جاسکتا تھا۔

Aimal Khattak

The author is a political commentator mainly covering socio-political and peace issues. He frequently comments on regional issues, especially Afghanistan. Aimal Khattak can be contacted at: aimalk@yahoo.com

aimal has 76 posts and counting.See all posts by aimal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *