دو کشتیوں کے سوار

ائینہ سیدہ

منافق اور منافقت کے الفاظ  ہماری روزمرہ زندگی کے لازمی جز بن کر رہ گیے ہیں  اپنی زندگی کو دوہرا میعار دے کر اس ایک جملے سے  لوگوں کو جھوٹی سچی  صفائیاں دے کر خاموش کر دیا جاتا  ہے کہ “یہ تو پاکستان ہے اس میں یہی چلتا ہے ” یا یہ کہ ” پاکستانی ہیں بھائی ہم لوگ تو  یہی کریں گے نا ” مگر اپنے سامنے والے کو یہ سہولت دینے پر ہم کبھی راضی نہیں ہوتے کہ وہ بھی ہماری طرح پاکستانی ہے اسمیں بھی وہی خامیاں،خوبیاں ہیں جو ہم میں ہیں

اپنے وطن میں ہمارے انصاف کا میعار بس یہی  ہے کہ ” پانچ ہزاربندہ لٹکا دو ” یا ” ابے دس ہزار ٹانگ دوسب ٹھیک ہوجاۓ گا  ” یہ  کہہ کرمعاشرے کی صفائی کا اعلان کرتے ہوئے مگر ہم بھول جاتے ہیں کہ کیا ہی اچھا ہوان پانچ یا دس ہزارمیں  ہمارے رشوت خوروالد صاحب، سونےکی اینٹیں اکھٹی کرتےماموں جان، سرکاری زمین پرقبضے کرتے چچا جان یا  کنڈے ڈال کر بجلی چراتے پھوپھا جان شامل ہوں

اپنی عوام کے لیے ”  پاکستانی ڈنڈے دی قوم اے ” کے گھٹیا اورتوہین آمیزجملے بولنے والےاپنی  پہلی فرصت میں “اس ملک میں کیا رکھا ہے “کا قول زریں بیان فرما کر کینیڈین ویزہ لگوانے ایمبیسی پہنچ جائیں گے یہ سوچے سمجھے بنا کہ ویزہ لگنے کی نوید کے ساتھ آپ جس ملک میں داخل ہورہے ہیں  وہاں محترم جسٹن تروڈو صاحب  کے نہ ہاتھ میں ڈنڈا ہے نہ بغل میں چھڑی تو جن جرنیلوں کی تعریفیں کرتے آپ نے آدھی صدی گزاری کیا وہ آپکے آئیڈیل تھے یا یہ جمہوری ملک کا منتخب وزیراعظم ؟

خدا را کسی ایک کشتی میں بیٹھیے حضرت  !!!!

مغربی ممالک  کے وزٹ ویزا لینےکےگرہوں یا شہریت لینے کی ترکیبیں…. ہم پاکستانیوں کے نہ ذہن تھکتے ہیں نہ اپنے”ڈنڈے کی قوم “والےاقوال زریں یاد آتےہیں.  ہم کوتو بس آزاد ،جمہوری ،سیکولر ممالک میں کسی نہ کسی طرح ریہائش اور ملازمت چاہیے.   اگر قسمت کی یاوری سے گوری گھاس ڈال دے تو وارے ہی نیارے ہوجاتے ہیں پرجب اپنی بیٹی “گوری” بن کرکسی آپ جیسے مرد کو گھاس ڈالنےکی عمر تک پہنچتی ہے تو محترم ڈ یپ فرائی گولڈن براؤن صاحب کو اپنے برانڈڈ اسلام ، عورت کی شرم و حیا اورباپ کی غیرت کے دورے پڑنے لگتے ہیں

کوئی ان دو منہ والے مردوں سے پوچھے کہ بھائی جان ! جس  گوری کی حسین ٹانگوں پرآپ فدا ہوۓ تھے اب اسکی بیٹی کی ٹانگیں بھی اپنی ماں پر ہی جائیں گی نا آپکی دادی پرتو نہیں جا سکتیں؟؟

یا تو حجاب اوراسلامی اقدارکوگلے سے لگائیں یا نیلی آنکھوں اور سنہرے بالوں والی آزادی کی متوالی باربی ڈول کو…. اس طرح دو کشتیوں میں سواری آپکو انشاللہ جلد  بیچ سمندرمیں ڈبو دے گی

افسوسناک  حقیقت ہے کہ ہم دوہرے میعار کی ابتدا اپنے محلے بلکہ گھر کے گیٹ سے ہی کر لیتے ہیں. گلی میں کچرا پھینکتےہیں اورحکومت کا انتظارکرتے ہیں بلکہ اگر وزیراعظم  پسندیدہ سیاسی پارٹی کا نہ ہو یا آپ خود ہی “بوٹ والی پارٹی ” سےعشق میں مبتلا ہوں تو دلی مراد یہی ہوتی ہے کہ ملک کا منتخب جمہوری وزیراعظم جھاڑو اور کچرے کی ٹوکری سر پر رکھ کر آئے اورآپکےگھرکے باہر پڑا کچرا اٹھاۓ مگر یہی لوگ جب امریکہ، کینڈا یا یورپ  پہنچ جائیں تو پانچویں کلاس کے بچے کی طرح رٹا رٹایا سبق پاکستان  سے تازہ تازہ  آنے والے اپنے چاچا کےبیٹے کوایر پورٹ پر ہی سنانا شروع ہو جاتے ہیں  “ا وے  ! ایتھے آ تےگیا ں ا یں پر گلاں غور نال سن …بیلٹ بن پھلاں ! ایتھے جاہلاں وانگر تھوکن دی کوشش نہ کریں جرمانہ لگدا اے ” ( یھاں آ تو گئے ہو لیکن یہ (باتیں غور سے سن لو اور پہلے  سیٹ بیلٹ لگاؤ !!  یھاں جاہلوں کی طرح مت تھوکنا جرمانہ لگتا ہے

یعنی انکے خیال میں پاکستان  سے آنے والےانکے” گرائین”  گویا اتنےہی بے وقوف ہیں کہ ایرپورٹ پر پہنچتے ہی جناب کے”اپناۓ” ہوۓ ملک میں تھوکنا شر و ع کردیں گے اوران جناب کا اپنا حال یہ ہےکہ پیدائشی وطن کے بارے میں  ہزاروں میل دور بیٹھےبھی کیڑے نکالنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں

یعنی قاضی جی بیٹھے ہیں  شکاگو میں اور دبلے ہورہے ہیں عمر کوٹ کے مکینوں کے لیے …..کاش دبلے ہی ہوجاتے مگر نہ  بھائی ! دبلے ہونے کا کوئی سین نہیں معاملہ صرف اعتراض اٹھانے کا ہے ،تنقید کرنے کا ہے اور ہر انگلی اٹھانے والے کی  طرح محترم کی تینوں انگلیاں اپنی ہی طرف ہیں مگر یھاں دیکھ کون رہا ہے

ان میں اکثر وہی لوگ ہیں جو پاکستان میں خود تو اصولوں اورقوانین  کی دھجیاں اڑاتے ہیں  مگر ساتھ ہی ساتھ یہ جگالی کرنا بھی نہیں بھولتے کہ فلاں نے اتنا کھا لیا ، محل بنا لیا ، بچے نواب بنا لیے، ہمیں لوٹ لیا ،  پاکستان کو تباہ کر دیا وغیرہ وغیرہ

کبھی کبھی اسی جگالی سے اس قسم کے جملے برآمد ہوتے ہیں کہ آپ اندازہ نہیں لگا پا ئیں گےکہ  جناب محب وطن صاحب کو دوسروں کے کرپٹ ہونے کا غم کھاۓ جا رہا ہے یا اپنے کرپٹ نہ ہونے کا غصہ ہے جو منہ سے جھاگ بن کر اڑ رہا ہے

ایسے ہی  “محب وطن عناصر” سے اگرآپ بیرون ملک ملاقات کریں تولگتا ہےکہ  وہ اس ملک کےآئین و قانون کی مکمل کتاب ہیں…………”یھاں سرگاڑی کے اندررکھتے ہیں ، پینڈوؤں کی طرح شیشہ نیچے کرکے باہر نہیں جھانکتے، یھاں سب سے مسکراکرہیلو کہتے ہیں، یھاں روڈ پرکوئی ہو نہ ہوسگنل پر رکتے ہیں، خط پوسٹ کرنا ہو یا چیک کیش کروانا ہو یا مال سے شاپنگ کرنی ہویا پارٹی میں کھانا لینا ہو لائین میں کھڑےرہو ، یھاں بچوں کو ڈانٹتے نہیں، یھاں بزرگوں کو راستہ دیتے ہیں ، یہاں وہاں کچرا نہیں پھینکتے ، تھوکو مت ، بس ڈرائیور اور پوسٹ مین کی عزت کرنی ہے ،دوسروں کی مذہبی روایت کا احترم کرنا ہے ، کسی کی سیاسی یا نسلی وابستگی پر ٹھٹھے بازی نہیں کرنی ، خواتین کے لباس پر نظر نہیں رکھنی ، خواتین کو گھورنا نہیں ہے ، یھاں یہ کرنا ہے یھاں وہ کرنا ہے وغیرہ وغیرہ  ” اور اگر کوئی شامت کا مارا پوچھ لے کہ بھائی جی ! یہ سب کچھ آپ اپنے وطن میں کر لیتے تو پردیس میں دوسرے ، تیسرے درجے کے شہری بننے کی بجائے  آپ اپنے ملک میں ہی عزت  کی زندگی گزار رہے ہوتے تو مت  پوچھیں جواب میں قاید اعظم کی”  غلطی “سے لے کرزرداری کی مالیاتی پوزیشن تک اور لیاقت علی خان کے ہوا میں لہراتے مکے سے شر ؤ ع  کرتے ہوۓ نواز شریف کے بالوں کی ٹرانسپلانٹ تک سب سیاسی  ؤ غیر سیاسی شخصیات کے نئے پرانے”کپڑے ” کس طرح گلی میں بیٹھ کر دھوے نچوڑے جاتے ہیں ساتھ ساتھ میں گالیوں کا تڑکہ وہ بھی ایسا کرارا جیسے” لہسن کا تڑ کہ “

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں ریھایش کے دوران  جتنا وقت ہم دوسروں کے گریبانوں کو پھاڑنے میں صرف کرتے ہیں آخر ہم اتنا یا اس سے آ دھا وقت اپنے گریبان میں کیوں نہیں جھانک لیتے ؟

جب ہم بیرون پاکستان پہنچ کر قوانین کا احترام کرتے ہیں تو اپنے ملک میں “بھیڑ چال “کا شکار کیوں ہوجاتے ہیں ؟

جب ہم  ملک سے باہر آکر اصولوں کی کشتی میں سوار ہو سکتے ہیں تو اپنی  دھرتی ماں کو کیوں بے اصولی ، بے ضابطگی اوربے پرواہی کی ٹوٹی پھوٹی کشتی بنا کرسمندر میں غرق کرنا چاہتے ہیں ؟؟

کیا یہ کم منافقت ہے کہ ہم ہر دوسرے شخص سے انصاف ، دیانت داری ، جمہوری رویے اور تھذیب کی امید رکھتے ہیں مگر اپنے آپ سے نہیں ؟؟

aina syeda

آئینہ سیدہ نے عملی زندگی کا آغاز ایک استاد کی حیثیت سے کیا اور قلم کا سفر پاکستانی سیاست کے اتار چڑھا ؤ اور معاشرے کی منافقتوں پر اخبارات اور رسائل میں کالم نگاری سے ،احساسات کی ترجمانی کرنے کے لیے شاعری کا سہارا لیتی ہیں اور زندگی کو مقصد فراہم کرنے کے لیے کمیونٹی کو اکثر اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرتی رہتی ہیں -------------------------- ان سے رابطے کے لیے ٹویٹر ہینڈل ہے @A_ProudCivilian

aina has 13 posts and counting.See all posts by aina

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *