فاٹا کے حوالے سے قوم پرست جماعتوں کا موقف

ایمل خٹک 

بعض سیاسی راھنماوں کی جانب سے اگر یہ بات کہی جائے یا ثابت کرنے کی کوشش کی جائے کہ قبائلی علاقوں کی حیثت متنازعہ ہے تو پھر بھی کوئی تُک بنتی ہے مگریہ دلیل کہ فاٹا آزاد ہے ایک مضحکہ خیز بیان ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۴۷ سے قبائلی  علاقوں میں عملا پاکستان کی عملداری ہے چاہے وہ انگریزوں کی طرح بالواسطہ کیوں نہ ھو ۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ عملداری مضبوط ھورہی ہے ۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ نہ صرف قبائلی علاقوں بلکہ پاکستان میں شامل پشتون علاقوں کا مسلہ ڈیورینڈ لائن سے جوڑا ھوا ہے ۔ وہ ایک تاریخی تنازعہ ہے اور اس کے کئی فریق ھیں۔ ایسے تنازعات کا حل پیچیدہ اور وقت طلب ھوتا ہے ۔ جب تک حل نہیں ھوتا کیا لاکھوں قبائلی عوام کی زندگیوں سے کھیلا جائے اور انھیں زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جائے۔ اور آزادی سے مراد کیا ہے؟  کیا قبائل کو آزاد کہنے سے ان کے سیاسی ، قانونی وغیرہ حقوق ان کو مل جائینگے ۔

میرے خیال میں قبائل کیلئے الگ حیثت یا الگ صوبے کا مطالبہ کرنا کوئی بری بات نہیں ۔ اگر تمام قبائل اس پر متفق ھیں اور ھوسکتے ھیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں اور اگر وہ صوبے میں مدغم ھونا چاہتے ھیں تو ان کی مرضی ۔ مگر اس کیلئے قبائل کی بنیادی حقوق کو داؤ پر لگانا یقیناً لاکھوں عوام سے زیادتی ھوگی ۔ ان کو نیم غلامی کی زندگی گزارنے کیلئے چھوڑنا بہت بڑی زیادتی ھوگی ۔

 قبائلی علاقوں کو تقسیم ھند کے فورا بعد قبائلی مشران اور حکومت پاکستان کے مابین نام نہاد معاھدوں کے زریعے شامل کیا گیا ۔ یہ معاھدے ابھی تک خفیہ راز ھیں کہ یہ معائدے کن کے درمیان اور کیسے ھوئے۔ ان مھاھدوں کی متنازعہ قانونی یا اخلاقی حیثت ایک طرف مگر عملا قبائلی علاقوں کو پاکستان کا حصہ بنایا گیا ۔ حتی کہ پاکستان بنے سے پہلے جناح صاحب نے اکتیس جولائی ۱۹۴۷ کو ایک بیان کے زریعے قبائل کو یقین دلایا تھا کہ ان کے ساتھ کئے گئے وعدے اور ماجب کو اس وقت تک برقرار رکھا جائیگا جب تک قبائل کے ساتھ بات چیت کے بعد نئے معاھدے نہیں کئے جاتے ۔ملک بننے کے بعد حکومت نے یہ معاھدے کئے مگر ان معاھدوں کے حوالے سے کافی تحفظات موجود ھیں ۔

کئی قبائلی مشران سے سنا ہے کہ  ان معاھدوں کے تین اھم شرائط تھے ایک یہ کہ قبائلی علاقوں میں پاکستان کی فوج تعینات نہیں ھوگی دوم قبائلی عوام کو اپنے رسم و رواج اور دستور کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ھوگا۔ سوم قبائلی علاقوں کی موجودہ حیثت میں کوئی بھی تبدیلی قبائل کی مرضی اور مشاورت سے لائی جائیگی ۔

 ان معاہدات اور ڈیورینڈ لائن کے حوالے سے بعض پیچیدگیوں کی وجہ سے پاکستانی حکومتوں نے قبائلی علاقوں میں مروجہ نظام کو 1972  تک نہیں چھیڑا ۔ دوسرا تقسیم ھند کے بعد بھی عرصے تک قبائلی علاقے کے حوالے سے پاکستان میں انگریزوں والی سوچ اور پالیسی برقرار رہی۔ اور آھستہ آھستہ قبائلی علاقوں کی سڑٹیجک ویلیو تبدیل اور بڑھتی گئ۔ قبائلی علاقے  زار شاہی اور برطانوی سامراج کے درمیان بفر زون کی بجائے نئے سامراجی انتظام کے تحت کمیونزم کے خلاف فرنٹ لائین اور لانچنگ پیڈ والی حیثت میں تبدیل ھوگئ ۔ سرد جنگ اور بعد میں نئی سرد جنگ کے دور میں قبائلی علاقوں میں پاکستانی ریاست کا اثرورسوخ اور فوجی موجودگی بڑی اور ریاستی عملداری مستحکم ھوئی ۔

غیرقانونی سرگرمیوں کی اجازت اور ٹیکسوں میں چھوٹ تو ھو مگر بولنے کی آزادی نہ ھو تو یہ آزادی منفی آزادی ہے ۔ یہ آزادی نہیں غلامی ہے ۔ حقیقی آزادی وہ ہے جہاں انسانوں کو بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیاں ھو زندگی کی آسانیاں اور آسائشیں دستیاب ھو۔  اپنے حق کیلئے اور بے انصافی اور زیادتی کے خلاف آواز آٹھانے اور اجتماع منعقد کرنے کی آزادی ھو ۔

1972 کے بعد آھستہ آھستہ سوشیو-اکنامک تبدیلیاں لائی گئی ۔ اور زرائع مواصلات کی ترقی کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ فوجی موجودگی کھبی نیم فوجی دستوں کی شکل میں تو کبھی باقاعدہ فوج کے زریعے مستحکم کی گئ اورعملداری بڑھادی گی ۔ کئ جگہوں پر چھاؤنیاں تو نہیں مگر فوجی موجودگی مضبوط کی گئی۔ دوھزار ایک کے بعد قبائلی علاقوں کا حلیہ ہی تبدیل ھوگیا اور عملا جگہ جگہ چھاؤنیاں بن گئی ھیں اور مروجہ قانونی اور پولٹکو ایڈمنسٹریٹو ڈھانچہ تہس نہس ھوا ہے ۔  جہاں تک ایف سی آر کا تعلق ہے تو ایف سی آر یا انگریزوں کی بالواسطہ عملداری پنجاب اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں ابھی تک کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے ۔ پاکستان نے بندوبستی علاقوں میں نوآبادیاتی دور کا قانون اور قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کو برقرار رکھا ہے۔

چلو کچھ دیر کیلئے مان لیتے ھیں کہ قبائلی علاقے آزاد ھیں ۔ تو اس آزادی کا مطلب کیا ہے ؟ یہ خالی خولی آذادی ہے یا واقعی آزادی ہے ؟ آیا  یہ آزادی پاکستان ریاست کی تابع مروجہ قانونی اور انتظامی فریم کے تحت ہے یا  آیا قبائل کا اپنا کوئی الگ ریاستی ڈھانچہ ہے ؟ فیصلہ سازی کا اختیار کسی نمائیندہ ادارے یا پاکستان کی متعین کردہ نوکر شاہی کے ھاتھوں میں ہے ؟ پولیٹکل انتظامیہ کا ایک معمولی اھل کار زیادہ طاقتور ہے ییا قومی مشران ؟ انکا اپنا کوئی الگ تعلیمی نظام ہے یا وہاں پاکستان کی منظور شدہ نصاب تعلیم پڑھایا جاتا ہے ؟ مقامی انتظامیہ اور خاصہ دار وغیرہ کی انتخاب ، تعیناتی ، تقرری وغیرہ پاکستانی ریاست کے زیر انتظام قواعد اور ضوابط چاہے وہ تقسیم سے پہلے کے ھیں یا بعد بنائے گے کے تحت ھورہا ہے ۔

اھل علم حضرات سے ایک سوال پوچھنے کی جسارت کر رہا ھوں کہ آیا آزادی کا تصور اور معنی وقت اور حالات کے ساتھ تبدیل بھی ھوئے ھیں یا وہی اٹھارویں اور انیسویں حتی کہ بیسویں صدی کا تصور ابھی تک رائج ہے۔ آزادی کا تصور اب بنیادی انسانی حقوق کے بغیر نامکمل ہے ۔  قبائل کی آزادی کا روایتی تصور جس کے اثرات بدقسمتی سے ھمیں ابھی تک نظر آتے ھیں ۔ یہ تصور ایک مخصوص قبائلی نظام کا پیداوار تھا اب نہ تو وہ قبائل ھیں اور نہ قبائلی نظام ۔ اور یہ کیا آزادی ہے کہ بڑے سے بڑا قبائلی  پو لیٹکل انتظامیہ کے معمولی سے معمولی اھل کار کے مقابلے میں  بے بس اور بے اختیار ھوتا ہے ۔

مذھبی اور سیاسی راھنماوں کے مسلہ مختلف ہے مگر  انضمام کی مخالفت کرنے والے اکثر قبائلی مشران یا تو روایتی مشران ھیں اور یا وہ ھیں جو پولیٹیکل انتظامیہ کی بی ٹیم اور ان کی ایماء پر مختلف اوقات میں قانونی ، انتظامی ، سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کے خلاف پیش پیش ھوا کرتے تھے ۔  اور قبائلی عوام  کی مفاد کے خلاف عمل کا وسیع تجربہ اور تاریخ رکھتے ھیں

انضمام کی تحریک کو اسٹبلشمنٹ کی تحریک کہنا ان ھزاروں قبائلی سیاسی اور سماجی کارکنوں کی جہدوجہد کی نفی اور ان سے سراسر بے انصافی اور زیادتی ہے جو سالوں سے قبائلی علاقوں میں اصلاحات کی تحریک چلا رئے ھیں اور اکثر سیاسی جماعتوں میں انضمام پر اتفاق اور تفاھم کئی سال قبل بہت کوششوں سے ممکن ھوا ہے ۔ سیاسی رقابتوں کی وجہ سے اور جماعتوں کی نسبت قوم پرست جماعتوں میں ایک دوسرے کو اسٹبلشمنٹ کا ایجنٹ قرار دینا ایک فیشن بن چکا ہے۔ ایک کہتا ہے کہ انضمام کی حمایت اسٹبلشمنٹ کی ایماء پر ھو رہی ہے دوسرا کہہ رہا ہے کہ انضمام کی مخالفت اسٹبلشمنٹ کے کہنے پر ھو رہی ہے ۔ قوم حیران اور پریشان ہے کہ کس کی بات سنے۔

آئین پاکستان کے تحت حلف اٹھانے والے اوراس کی دفاع اور تحفظ کیلئے جنگ کرنے والوں کو اس کی De Jure اور De Facto قانونی حیثت دونوں کا بخوبی پتہ ہے ۔ آئین کا آرٹیکل ایک واضع طور پر اس کی De Facto قانونی حیثت کو واضع کرتی ہے ۔ اسلئے قبائلی علاقوں کے حوالے سے کوئی بھی موقف اختیار کرنے کیلئے اس کی تاریخی حیثت کو دیکھنے کے علاوہ موجودہ حیثت اور اس کی De Jure اور De Facto قانونی حیثت کا تعین کرنا بھی ضروری ہے ۔ ایک فریق یعنی پاکستانی ریاست تقسیم سے پہلے کی حیثت اور معاھدات کو نہیں مانتی بلکہ قبائیل کی حکومت کے ساتھ معاھدات کو بنیاد بنا کر اپنے موقف کو درست ثابت کرتی ہے ۔ جبکہ دوسرا فریق افغانستان اور قوم پرست ڈیورینڈ لائین کو متنازعہ قرار دیتے ھیں اور صرف قبائلی علاقے کی نہیں بلکہ تمام پشتون بیلٹ کی کی قانونی حیثت پر سوال اٹھاتے ھیں ۔

سوال پختونیت یا افغانیت کا نہیں  اور نہ بحث قبائلی علاقوں  یا ڈیورینڈ لائین کی تاریخی حیثت کا ہے اس پرتمام قوم پرست جماعتوں کا موقف واضع ہے ۔ سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے تقریبا تمام قوم پرست جماعتوں کی ایسے بیانات اور عمل موجود ہے جس سے ان کی ڈیورینڈ لائین پر متضاد موقف کی عکاسی ھوتی ہے ۔ قوم پرست جماعتوں کے کارکن ایسے بیانات اور عمل کو وہ روزانہ کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ھیں ۔

یہاں سوال اگر افغانیت کا ھے پھر ایک تو یہ صرف قبائلی علاقوں تک محدود نہیں ہے اور دوسرا سوال پھر یہ اٹھنا چائیے کہ قبائلی علاقہ افغانستان میں شامل ھونا چاہئے یا پاکستان میں رہنا چائیے ؟ اس سلسلے میں اھم سوال یہ بھی ہے کہ آیا صرف قبائلی علاقہ آزاد یا افغانستان میں شامل ھونا چائیے ؟

 یہ سوال کہ انضمام سے افغانیت یا ڈیورینڈ لائین پر موقف کو نقصان پہنچے گا ۔ ھماری دیگر سرگرمیوں اور موقف سے کیا وہ مضبوط ھو رہا ہے یا کمزور؟  اس سوال کا سنجیدگی سے جواب ڈھونڈنے کی ضرورت ہے ۔ یہاں کچھ کہنے اور کہنے کی جسارت کرنے کیلئے حوصلہ چائیے جو مجھ میں نہیں ورنہ بہت سے لوگوں کے ذھنوں میں مختلف سوالات ھیں ۔

سیاسی موقف اپنی جگہ پر اور دلوں کا حال خدا جانتا ہے مگر دونوں اطراف کے اسلام آباد میں اجتماعات کے اعلامیوں کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ دونوں اطراف قبائلی علاقوں کا حل پاکستان کے جغرافیائی فریم ورک میں تجویز کر رئے ھیں۔  اور اختلاف انتظامی ڈھانچے  پر ہے۔  ایک موقف پاکستان کے جغرافیائی فریم ورک کے اندر الگ انتظامی ڈھانچے اور دوسرا خیبر پختونخوا میں انضمام کا مطالبہ کررہا ہے ۔ جو انضمام کی بات کر رہے ھیں وہ فاٹا کو پنجابیوں یا سندھیوں کے ساتھ نہیں بلکہ پختونوں  کی اکثریتی صوبے یعنی خیبر پختونخوا میں شمولیت کی بات کر رئے ھیں ۔ جبکہ الگ اکائی والے قومی وحدت کے اپنے دیرینہ موقف کی نفی اور پختونوں کی تقسیم کو مزید گہرا کر رئے ھیں۔ اگر تین بھائیوں میں سے دو کو ابھی آپس میں ملنے کا موقع مل رہا ہے تو اس میں کیا قباحت ہے؟

دراصل یہ سیاسی مفادات کی جنگ ہے ۔ اور فریقین نے اس حوالے سے اپنا اپنا الگ سیاسی موقف اختیار کیا ہے اور اس کی دفاع کی جاتی ہے ۔ ھر انسان کو کوئی بھی موقف اختیار کرنے اور دفاع کا حق حاصل ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ یہ موقف کتنا صیع یا غلط ہے ۔

Aimal Khattak

The author is a political commentator mainly covering socio-political and peace issues. He frequently comments on regional issues, especially Afghanistan. Aimal Khattak can be contacted at: aimalk@yahoo.com

aimal has 72 posts and counting.See all posts by aimal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *