لاہور فلمی صنعت کی چند المیہ داستانیں

مصنف ایم سعید اعوان

مترجم − یمین الاسلام زبیری:

لاہور کی فلمی دنیا میں بپا ہونے والے کچھ پراسرار واقعات اور کچھ المیے ایسے گزرے ہیں کہ جنہوں نے کیا فلمی، کیا صحافتی اور کیا سماجی سارے ہی حلقوں میں ایک ہل چل مچادی، لیکن رفتہ رفتہ یہ واقعات اور وہ شخصیات جن کے ساتھ یہ پیش آئے تھے وقت کی دھول میں کہیں گم ہوگئے۔ لیکن اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کو وہ شخصیات، ان کے نام، اور ان کے کارنامے یاد ہیں۔ یہ وہ شخصیات تھیں جو جب پردہ سیمیں پر نمودار ہوتی تھیں تو ناظرین میں ایک خوشی کی لہر دوڑ جاتی تھی، اور وہ کسی بھی فلم کی کامیابی کی ضمانت تسلیم کیے جاتے تھے۔ فلم کے شوقین جب فلم دیکھنے کا ارادہ کرتے تھے تو اخباروں میں فلمی اشتہاروں میں ان ناموں کو تلاش کرکے طے کرتے تھے کہ انہیں وہی فلم دیکھنی ہے۔ اخباروں کے فلمی صفحے ان کی تصاویر سے بھرے ہوا کرتے تھے۔

رفیع خاور المعروف باسم ننھا

رفیع خاور المعروف باسم ننھا کو اس کی پاکستان ٹی وی کے پہلے مزاحیہ سلسلے ’الف نون‘ میں کارکردگی پر بہت سراہا گیا۔ یہ اس نے مشہور ادیب و فنکار کمال احمد رضوی کے ساتھ کیا تھا۔

شروع شروع میں ننھا پنجابی فلموں میں چھوٹے موٹے کردار کیا کرتا تھا، منور ظریف اور رنگیلا کی موجودگی میں اس کے لیے لاہورمیں اپنی جگہ بنانا قدرے مشکل کام تھا۔ البتہ فلم ’ضدی‘ (١٩٧٣) کے جاری ہونے کے بعد، اور پھر اردو کی فلم ’نوکر‘ (١٩٧٥) کے بعد ایک بڑی تبدیلی آئی۔ اب اس کی اور تمنا بیگم کی جوڑی مزاحیہ اردو فلموں میں اکثر نظر آنے لگی؛ کبھی وہ باپ کے روپ میں، یا دادا یا نوکر کا کردار ادا کرنے لگا۔

اس کے بعد اسے فلم ’ٹھیکا پہلوان‘ (١٩٧٩) میں ایک مرکزی کردار کرنے کا موقع ملا۔ اسی سال اس کی فلم ’دبئی چلو‘ نے چوٹی کی کامیابی حاصل کی۔ اس کے ہدایت کار حیدر چودھری تھے۔

تمام کامیاب فلمی صنعتوں کی طرح لاہور کی صنعت بھی

 پراسرار اموات، تا حال حل طلب قتل اور

 المیہ قصوں سے بھری پڑی ہے

اگرچہ سلطان راہی ماردھاڑ سے بھرپور فلموں میں چھائے ہوئے تھے، لیکن ننھا اور علی اعجازکو (جنہیں ’دبئی چلو‘ سے شہرت ملی تھی) اسی کی دہائی کے پہلے نصف میں بے انتہا مقبولیت ملی، اور وہ پچاس سے زیادہ فلموں میں مرکزی کردار کرتے نظر آئے۔ اس زمانے کی فلموں میں سلطان راہی اور انجمن کی جوڑی ہوا کرتی تھی، اور علی اعجاز کبھی ممتاز اور کبھی رانی کے ساتھ جوڑی بناتے تھے، اور ننھا کی جوڑی نازلی کے ساتھ بنتی تھی۔

ننھا اور نازلی میں ایک رومانی تعلق پیدا ہوگیا، اور وہ اکثر محفلوں میں ساتھ دیکھے جانے لگے۔ فلموں میں ان کے پیار کا بہترین ثبوت ان فلمی گانوں میں ملتا ہے: ویکھ میری بانھ تپ دی منڈیا؛ اکھیاں رہنے دیاں مست مست؛ میرا کر لے کوئی بندوبست؛ اور وی یاری توڑی نا، وی مکھ متھوں موری نا (ٹھیکا پہلوان)

اندر کے راز رکھنے والوں کے مطابق نازلی کے ساتھ اس عشق کے دوران ننھا کےلیے پیسہ کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ اس وقت وہ اپنی شہرت کی بلند چوٹیوں پر پہنچا ہوا تھا؛ اتنا کہ اس نے اپنے تمام فلم کاروں کو مجبور کردیا تھا کہ وہ نازلی کو اس کے ساتھ کام دیں۔ نازلی نے اس موقعہ کا پورا پورا فائدہ اٹھایا ؛ اس وقت وہ دونوں ایک جان دو قالب تھے۔ لیکن ننھا کچھ غلطیوں کا مرتکب ہوگیا اور اس کی معاشی حالت غیر ہونا شروع ہوگئی؛ اب نازلی کی توجہ بھی اس کی طرف کم ہونے لگی۔

٢جون ، ١٩٨٦ میں ننھا نے مبینہ طور پر اپنے آپ کو شاٹ گن سے مار کر خودکشی کرلی۔ فلم کار جمشید ظفر بیان کرتے ہیں کہ کمرے میں ایک انتہائی خوفناک منظر تھا، ننھا خون میں لت پت پڑا تھا؛ یہ منظر ایسا تھا جیسے جرم و سزا پر بننے والی کسی فلم کا ہو۔ بحرحال، آج دن تک ننھا کی موت کے اسباب ایک راز ہی ہیں۔ ایسی افواہیں بھی سنی گئیں کہ ننھا نے اپنی تمام جائیداد اداکارہ نازلی کے نام کر دی تھی، ان افواہوں نے ننھا کے گھر والوں کوایک ذرا چونکا سا دیا تھا۔ لیکن ہم تک تفاصیل نہیں پہنچی ہیں۔

نگّو

نّگّو کی پرکشش شخصیت اور اس کی رقص میں اعلی صلاحیتوں نے فلمی دنیا میں سب ہی کو متاثر کیا تھا۔ اس کے زمانے کے سارے ہی پنجابی فلم کار کلاسک مجرا ناچوں کے ‘نمبروں’ کے لیے اس ہی کا انتخاب کرتے تھے۔ اس زمانے میں فلموں میں ‘نمبر’ وہی چیز تھی جو اب ‘آئٹم‘ کہلاتی ہے۔ یقینا مجرا والی کے کردار کے لیے نگو ہمیشہ پہلا انتخاب ہوا کرتی تھی۔

فلم ’قاسو‘ (١٩٧٢) میں جو خواجہ مظہر کی پیش کش تھی، کام کے دوران نگو اپنے پیش کار کی محبت میں گرفتار ہوگئی، اور بہت جلد دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ اس شادی نے نگو کے گھر والوں کو انتہائی برہم کر دیا۔ نگو لاہور کے شاہی محلے سے تھی، جہاں کی قدیم روایات کے مطابق ان کی کوئی لڑکی نہ شادی کرسکتی تھی نہ کسی کے ساتھ جا سکتی جب تک کہ اس خاندان کو کوئی معاوضہ نہ ادا کردیا جائے

جب اس کے خاندان کی نگو کو گھر واپس لانے کی تمام ہی کوششیں لاحاصل رہیں تو اس کی ماں نے اپنی سخت بیماری کا ڈھونگ رچایا اور نگو سے بڑی التجا کی کہ وہ آ کر ایک آخری بار اپنی ماں سے مل لے۔ نگو گھر آگئی۔ گھر آنے پر اس کی ماں اور دوسرے گھر والوں نے اسے ہر طرح سے یہ باور کرادیا کہ اس کا شوہر اس کے اور اس کے گھر والوں کے لیے ہرگز مناسب آدمی نہیں ہے۔ نگو اپنے خاندان کے اس دباو کا شکار ہوگئی اور اس نے مظہر کے پاس واپس جانے سے انکار کردیا۔

ادھر مظہر نے، جو شاکی تو نہ تھا لیکن شش و پنج میں ضرور پڑا ہوا تھا، اپنی پرڈکشن مینیجر کو، جنہیں ماما کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، حالات کو قابو میں لانے اور نگو کی واپسی کا رستہ بنانے کے لیے سفیر مقرر کیا؛ لیکن بےسود۔ آخری آدمی مظہر کے موسیقار منظور اشرف تھے جنہوں نے نگو کو واپس لانے کی کوشش کی اور ناکام رہے۔ منظور وہ شخص تھے کہ نگو ان کا کہا اس وقت بھی نہیں ٹالتی تھی جب اس کا عشق عروج پر تھا۔

آخر جلد ہی خواجہ مظہر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، وہ ایک سٹین گن لیے ہیرا منڈی پہنچا اور اپنی بیوی نگو کو گولیوں سے بھون دیا (اس زمانے میں سٹین گن خاصہ عام تھا)۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح چہار سو پھیل گئی، اس زمانے میں فلمی دنیا میں اس قسم کے واقعات نہیں ہوا کرتے تھے۔ نگو کی ماں نے بدلہ لینے کی قسم کھائی۔ خواجہ مظہر کو ایک عدالت سے عمر قید کی سزا سنادی گئی۔ جب تک یہ مقدمہ چلا تب تک ذرائع ابلاغ کے لیے گویا گنگا بہتی رہی۔ خواجہ مظہر نے اپنی مدت پوری کی اور کچھ عرصہ آزاد زندہ رہنے کے بعد اپنی طبعئی موت سے ہمکنار ہوا، اور گجرانوالہ میں اپنے قصبے میں دفن ہوئا۔

سلطان راہی

انتھک اور روایتی اداکار سلطان راہی نے کوئی سات سو سے اوپر پنجابی اور سو سے اوپر اردو فلموں میں اپنے کام کے جوہر دکھائے ہیں۔ میں نے بذات خود اسے ایک دن میں تین تین فلموں کے سیٹوں پر کام کرتے دیکھا ہے۔ ایورنیو سٹوڈیومیں ایک منظر پر کام ختم کرکے وہ سیدھا ایورنیو اسٹوڈیو سے ملحقہ باری سٹوڈیو پہنچا کہ وہاں ایک منظر پر کام کرسکے۔ باری سٹوڈیو میں تین چار گھنٹے مختلف سیٹوں پر لگا کر وہ نکلا اور شاہ نور اسٹوڈیو پہنچا جہاں فلم بنانے والوں کی ایک جماعت اس کا بے چینی سے انتظار کر رہی تھی کہ جیسے ہی وہ آئے تو کام شروع کردیا جائے۔

راہی کی ایک بہت اچھی بات یہ تھی کہ وہ اپنے وعدے کا پکا تھا اور دوسری یہ کہ اسٹوڈیو کے معمولی تنخواہوں پہ کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ ہمیشہ بڑی خوش مزاجی کے ساتھ کام کرتا تھا۔

سب سے بڑی بات یہ تھی کہ وہ فلموں کی کامیابی کی ضمانت تھا؛ یعنی ایسا آدمی جو فلم کار کے لگائے ہوئے سرمائے کو واپس لاسکتا ہو۔ اپنی فلمی زندگی میں اس نے ١٦٠ انعامات حاصل کیے۔ اس کی چند مشہور فلمیں ہیں: ’مولا جٹ‘، ’ شیر خان‘، ’ چن وریام‘، ’بابل صدقے تیرے‘، ’شریف بدمعاش‘، ’بشیرا‘آ اور ’وحشی گجر‘۔ ذاتی طور پر وہ ایسا تھا کہ اس کےعطیات سے باری سٹوڈیو میں ایک مسجد تعمیر ہوئی ہے؛ اور چھوٹے اداکاروں کی مالی معاونت کے لیے ہمیشہ تیار رہتا تھا۔ اس کے ساتھ کام کرنے والی چند اداکارائیں آسیہ، انجمن اور صائمہ تھیں۔

٩جنوری ، ١٩٩٦، رات کے وقت سلطان راہی اپنی کار میں اسلام آباد سے اپنے گھر آرہا تھا کہ گجرانوالہ کے نذیک عین جی ٹی روڈ (جرنیلی سڑک) پر سمن آباد چنگی پر اس کی کار کا ٹائر پھٹ گیا۔ اندھیرے اور ویرانے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ آدمی اس کی گاڑی تک آئے اور انہوں نے اس پر گولی چلادی۔ سلطان راہی کے گہرے زخم آئے، اسے ڈی ایچ کیو اسپتال، گجرانوالہ، لے جایا گیا جہاں وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملا۔

نادرہ

نادرہ انتہائی حسین و پرکشش چہرے کی مالک تھی، ساتھ ہی وہ ایک ذہین اداکارہ بھی تھی؛ یہ سب اسے فلمی صنعت کا ایک درخشاں ستارہ بنانے کے لیے کافی تھا۔ آٹھ سال تک وہ لاہور کی فلمی دنیا پرچھائی رہی، اس اثنا میں اس نے پنجابی اور اردو فلموں میں خوب کام کیا۔ اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتے وہ بڑی غریب نواز قسم کی خاتون تھی، اور اس وجہ سے اس کے ساتھ کام کرنے والے تمام ہی اس کی بہت عزت کرتے تھے۔ اکثر فلمی تکنیکی عملے اور ان کے خاندان والوں کی مدد کرنے میں وہ آگے آگے ہوتی تھی۔

یہ اور بات ہے کہ نینا کا انجام بھی

 نادرہ سے کچھ مختلف نہ ہوا

فلموں کے علاوہ وہ نجی محفلوں میں بھی اپنی کارکردگی دکھاتی تھی۔ ایک بار ایک افواہ یہ اڑی کہ اس نے ایک رات کے مجرے سے باون لاکھ روپے کمائے ہیں۔ اس وقت کی ایک اور افواہ کے مطابق اداکارہ نینا نے اسی طرح چھپن لاکھ روپے کمائے تھے، واللہ عالم۔ یہ اور بات ہے کہ نینا کا انجام بھی نادرہ سے کچھ مختلف نہ ہوا۔

’جس وقت نادرہ نے اسٹوڈیو میں پہلا قدم رکھا، تو وہ اس ٹائم کی مہنگی ترین کار میں اسٹوڈیوز میں آئی تھی۔ ورنہ تو، زیادہ تراداکارائیں دوسروں کی کارز میں یا رکشا ٹیکسی میں پہنچتی تھیں،‘ گڈو فلم آرکائیو کے گڈو کا کہنا ہے۔

نادرہ کے وہبی حسن کی وجہ سے بہت سے امراء اور اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ اس کے التفات کے طالب رہتے تھے۔ ایک بار نادرہ کے ایک قریبی دوست نے راقم کوبتایا کہ ایک بار نادرہ نے اپنے لندن کے دورے پر ایک بینک سے رقم نکلوائی تھی جو کسی نے امارات سے اس بینک میں منتقل کی تھی۔

اس نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کرجائیداد کی خرید و فروخت کا ایک کاروبار بھی شروع کیا تھا۔ اسی کاروبار میں میاں بیوی میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور ان بن ہوئی۔ ١٩٩٥ میں اسے اس وقت جب وہ ایک ریسٹوران سے نکل رہی تھی گولیوں سے بھون دیا گیا۔ اگرچہ اس کے شوہر پر شبہ ضرور جاتا تھا لیکن پولیس کی تفتیش بے نتیجہ ہی رہیِ۔ اس کے قتل کے سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ ان کا مقدمہ ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ (ایک خبر کے مطابق، لاہور کی مصروف مارکٹ گلبرگ کے قریب ڈاکوئوں نے واردات کے دوران نادرہ کو قتل کر دیا تھا۔)

نادرہ کی موت سے لالی وڈ کے فلم کاروں کو جو اس سے اپنی نئی آ نے والی فلموں میں کام کے لیے دستخط لے چکے تھے شدید دھچکہ لگا۔ اس نے اپنی مختصرسی فلمی زندگی میں یقیناً صنعت پر ایک غیر مبہم اور گہرا اثر چھوڑا.

یاسمین خان

شمشاد، جن کا دوسرا نام یاسمین خان تھا، ١٩٥٠ میں پشاور میں پیدا ہوئیں تھی، اور ٦٠‘ کی دھائی کے شروع میں کراچی منتقل ہوگئیں تھی۔ کراچی ہی سے اس نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز دسمبر ١٩٧٠ میں جاری ہونے والی پشتو فلم ’یوسف خان شیربانو‘ میں مرکزی کردار ادا کرکے کیا تھا۔

انیس سو پچھتر میں جس وقت اردو کی ’دلہن ایک رات کی‘ جاری ہوئی تو اس فلم نے پشتو اداکاروں کو رات کی رات میں آسمان کا ستارہ بنادیا، یاسمین خان ان ہی اداکاروں میں سے ایک تھی۔ اسے اس فلم کے گانے ’آجا آجا کرلے پیار، کہتی ہے سوہانی شام‘ پر ناچنے کا موقع دیا گیا تھا اور اس ناچ کی ہدایتکاری بہترین طریقے پر کی گئی تھی کہ اس کے بعد یاسمین خان کا شمار پائے کے اداکاروں میں ہونے لگا۔ اب اسےپنجابی فلموں میں بھی کام ملنے لگا، جیسے ’ہتھکڑی‘ (١٩٧٦) جس میں اس نے گانے ’جوانی میری بجلی، طوفان میرا نخرا‘ پر رقص کیا تھا۔

یاسمین خان نے فلمی صنعت سے اس وقت کنارہ کر لیا جب پشتو فلموں میں عریانی اور فحاشی بہت بڑھ گئی، اور پشتو معاشرے کی ایک بگڑی ہوئی تصویر ان فلموں میں دکھائی جانے لگی۔

یاسمین کی پہلی شادی جو کہ اداکار ساقی کے ساتھ ہوئی تھی طلاق پر ختم ہوئی تھی۔ کچھ عرصہ بعد باری اسٹوڈیوکے مالک خرم باری کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھی۔ بدقسمتی سے یہ شادی بھی کچھ زیادہ عرصہ قائم نہ رہی۔ آخر میں ایک نوجوان بنام عارف اللہ تھا، جو کہ ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور یاسمین کے لیے اپنے دل میں ایک نرم گوشہ رکھتا تھا ۔ اس نوجوان نے آگے بڑھ کر یاسمین سے شادی کرلی اور یہ جوڑی پشاور منتقل ہوگئی۔

یاسمین نے فلمی دنیا سے یکسر کنارہ کشی اختیار کرلی اور اب وہ مذہبی اور خیراتی کاموں میں حصہ لینے لگی۔ ادھر عارف کے ماں باپ یاسمین کو اپنی بہو تسلیم کرنے کے لیے ہر گز تیار نہ تھے، انہوں نے اپنے بیٹے کو اس بات پر عاق بھی کردیا۔ عارف کو اور بہت سی قبیح باتوں کے علاوہ جوا کھیلنے کی بھی لت تھی؛ اور وہ پہلے سے ایک بیوی رکھتا تھا جس کا انکشاف یاسمین پر بعد میں ہوا۔ یاسمین نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح عارف سدھر جائے لیکن اس بات نے عارف کو غصیلہ بنادیا۔

یاسمین کی اسے سدھارنے کی کوششوں سے تنگ آکر، ١٥ اپریل ١٩٩٩ کو اس نے یاسمین کو مارڈالا اور باہر سے گھر کو تالا لگا کر وہاں سے چلا گیا۔ دو دن کے بعد یاسمین کی لاش برآمد ہوئی۔ اتنا کچھ ہوا پھر بھی اس کا دفن بڑا معقول انداز کا تھا۔ اس واقعے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا، خاص کرلاہور فلم انڈسٹری سے منسلک لوگوں کو، کیوںکہ وہ یاسمین کے مداح تھے اور اس کی بڑی عزت کرتے تھے۔

کچھ عرصہ گزرا ہوگا کہ عارف اللہ جو ایک تیسری شادی رچانے کی کوشش کر رہا تھا قتل کردیا گیا۔ اس کے والدین نے اس کی لاش کو وصول کرنے سے انکار کردیا اور اس کے دوستوں نے اس کے کفن دفن کا انتظام کیا۔

عندلیب

اسے شہزاد رفیق نے اپنی فلم ’گھونگھٹ‘ (١٩٩٦) کے لیے پسند کیا تھا۔ اس فلم کی ہدایت کاری سید نور نے کی تھی، اور یہ فلم چوٹی کی ثابت ہوئی تھی۔ ’میں نے اسے (عندلیب کو) پی ٹی وی کے ایک کھیل میں دیکھا تھا، اور اس کی صلاحیتوں سے بہت متاثر ہوا تھا،‘ شہزاد کا کہنا ہے۔ سید نور کے مطابق وہ خاصی پیشہ ورانہ تھی اس لیے اس کے سیالکوٹ کے صنعتکار حنیف گھمن کے ساتھ تعلقات کوئی تعجب کی بات نہیں تھی۔

سید نور عرف شاہ جی کا کہنا ہے، ’گو کہ فلمی دنیا سے باہر بھی لڑکیاں اپنے ندیم رکھتی ہیں، لیکن چوںکہ فلمی دنیا کی شخصیات اپنی طرف توجہ زیادہ مبذول کراتی ہیں اس لیے لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ان شخصیات کے ساتھ خاص مراسم بنا سکیں۔‘

گھمن اور عندلیب مختلف مقامات پر اکثر ملا کرتے تھے۔ ایک وقت آیا کہ اس کی گھمن میں وہ دلچسپی باقی نہیں رہی اور اس نے اس سے دوری اختیار کرنے کی کوشش کی۔ اس پر گھمن نے بدلہ لیا اور عندلیب کا چہرا بگاڑنے کے لیے اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا۔ اس واقع نے عندلیب کو فلمی دنیا سے دور کردیا۔ اس کے چہرے کی بحالی کے لیے ایک بڑی جلدی جراحی ہوئی۔ وہ فلمی دنیا سے دور اب ایک خوش وخرم ازوجی زندگی گزار رہی ہے۔

ماروی

اس کا تعلق اداکارائوں کے اس گروہ سے تھا جس نے مشکلات کے باوجود لاہور فلم انڈسٹری تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ اصل میں وہ سندھ سے تھی لیکن بہت مختصر عرصے میں اس نے لاہور  کے چمکتی لڑیوں کے فلمی قصبہ میں اپنی جگہ بنا لی تھی۔

ماروی نے تین یا چار ہی فلموں میں کام کیا ہوگا لیکن اس نے فلم بینوں اور اپنے فلم کاروں دونوں ہی کو اپنی اداکاری کی بے پناہ صلاحیتوں سے بیحد متاثر کیا۔

ایک فلم کار نے اس کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اسے اپنی فلم ’ماروی‘ میں فیصل قریشی کے مقابل مرکزی کردار کے لیے چن لیا۔ لیکن اس طائرک کے لیے قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، ابھی اس نے مشکل سے ہی اڑان لی ہوگی کہ اس کے ایک عاشق ناشاد نے اس کو گولی مار کر اس کا قصہ ہی ختم کردیا۔ یہ واقعہ طارق روڈ، کراچی، کی ایک لال بتی پر ٢٥ اگست، ١٩٩٨ کو پیش آیا۔ وہ اپنی کار میں جسے وہ خود چلارہی تھی تڑپ کر ٹھنڈی ہوگئی، کسی نے اس کی مدد نہ کی۔ پولیس اہلکاروں کے آنے تک لاش کار میں رہی۔ ایک بار پھر، اس سلسلے میں بھی کوئی گرفتاری عمل میں نہ آئی، اور یہ مقدمہ بھی آج دن تک حل طلب ہی ہے۔ ماروی اس اداکارہ کی آخری فلم ثابت ہوئی، اور اس کی موت کے بعد جاری ہوئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *