میری ذات ذ رہ بے نشاں …آخری حصہ

آئینہ سیدہ

یہ ایک تاریخی سچ ہےکہ قدرت کمزوراوربےبس کے ساتھ ظلم اور بدسلوکی روا رکھنےوالےاکثرطاقتوروں کا انجام دنیا کےلیےعبرت کا با عث بنا دیتی ہےاوریہی کچھ جرنیل ضیا کے ساتھ ہوا

معاشرے کے کمزور گروہوں کو جرنیل ضیا کے گیارہ سالہ دور حکومت میں ہر طرح سے پیسا گیا کبھی ملکی قوانین کے ذریعے تو کبھی امتیازی آئینی ترامیم کے ذریعے جو کہ انسانی حقوق سے متصادم تھیں مگر غاصب کی بلیک میلنگ نے ان ترامیم کو ایک غیر جماعتی ایوان سے پاس کروا کرپاکستان کی خواتین اور مذہبی اقلیتوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے خطرے میں ڈال دیں

بعد میں جسطرح اس بلیک میلنگ کا شکار ہونے والی جونیجو حکومت کو اسی آ مر نے ذلت آمیزطریقےسے رخصت کیا وہ یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ الیکشن کروانا اورایوان کا قیام سواۓ دنیا اور خود پاکستانیوں کو بیوقوف بنانے کے علاوہ کچھ نہیں تھا اسی ربرسٹمپ اسمبلی نےپاکستان کی تاریخ کےبدنام ترین امتیازی قوانین کو قانونی شکل دی تھی.١٧ اگست ١٩٨٨ کے دن قوم کو ان ترامیم کو زبردستی ایک غیر جماعتی ایوان سے پاس کروانےوالےآمرسےنجات مل گئی

خواتین سے مذہبی ، معاشرتی ،معاشی بدسلوکی کی جو قانونی وآئینی روایت جرنیل محمد ضیا الحق نےڈالی اسکوختم کرنے کے لیےآ مر کے بعد آنے والے منتخب ا یوانوں نےاپنی سی کوشش کی خاص طورپرمسلم امہ کی پہلی منتخب خاتون وزیر اعظم کے دونوں ادوار میں یہ کوشش کی گئی اور دونوں بار مطلوبہ نتایج برآمد نہیں ہوسکے! یھاں ریکارڈ کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ باوجود اسکے کہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کوعوام نے دوباراپنا حق استعمال کرتےہوۓ منتخب کیا ( حالانکہ بعد میں یہ بھی ثابت ہوا کہ ضیا کی باقیات اورمقتدرہ حلقوں نےمل کرمحترمہ کو بھاری اکثریت سےفتحیاب ہونے سے روکنےکےلیے دونوں بارانکا مینڈیٹ چرایا ) اورباوجود اسکے کہ عوام نے ایک خاتون وزیراعظم کو دس سال حکومت کا مینڈیٹ دیا تھا انہیں صرف ساڑھے چارسال حکومت کرنےکا موقعہ دیا گیا ! دوسری طرف نواز شریف کی حکومتیں بھی باوجود اسکے کہ انکو “بھاری مینڈیٹ ” کی حکومت ہونے کا شرف حاصل رہا مگر اپنی آئینی مدت پوری کرنے سے پہلے ہی ان حکومتوں کو بھی گھربھیج دیا گیا

سو ضیا کے خواتین اور معاشرے کے دوسرےکمزور طبقوں کے خلاف امتیازی قوانین ڈیکٹیٹر کی موت کے بعد منتخب ہو کر آنے والی چارسیاسی حکومتوں نے بھی ختم نہ کیے اوریہ افسوس کا مقام تھا….. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت ملتے ہی پہلا کا م ضیا الحق کے ظالمانہ قوانین کو یک جنبش قلم ختم کرکے خواتین کی گردنوں سے وہ طوق اتار پھینکا جاتا جو ایک غیر منتخب انتہا پسند ڈیکٹیٹرنے معاشرے کے کمزور طبقوں خاص طور پرعورت کے گلےمیں ڈال دیا تھا،مگر ایسا نہیں ہوا

سیاسی حکومتوں کی نااہلی ، ملا کی ازلی عورت دشمنی، کچھ سیاسی جماعتوں کا ضیا کی متعصبانہ پالیسیوں کی طرف فطری رجحان اور پھر مقتدرہ حلقوں کی طرف سے منتخب اداروں پر ناجائز پریشر….ان سب وجوہات نے یہ کام کسی بھی جمہوری حکومت کو پایہ تکمیل تک پہنچا نے نہ دیا

١٩٩٩ء میں ایک بار پھر جمہوریت پر شب خون ما را گیا مگراس بار”بظاہر” جرنیل ضیا کی خواتین مخالف پالیسی سےایک سو اسی ڈگری کا زاویہ بناتی مشرف حکومت تھی جس نے ” ترقی پسندی ” اورخواتین کی آزادی کا راگ الاپا مگرمعاشرے کو دو نظریاتی انتہاؤں میں تقسیم کرنےکا جو آغاز مشرف دورمیں ہوا اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا

ایک جانب بھٹو دورکا بنایا ہوا خواتین کی ایوان میں نمایندگی کا قانون بحال کیا گیا بلکہ اسمیں سیٹوں کا اضافہ کیا گیا ، وزارتوں میں خواتین کو نمایندگی دی گئی ،ٹی وی ، ریڈیو پرخواتین کی آزادی کے شوز اورنعرے لگاۓگیے اور نومبر ٢٠٠٦ء میں نیشنل اسمبلی سے“ تحفظ خواتین بل “ بھی پاس کیا گیا تو دوسری طرف ڈاکٹر شازیہ اور مختاراں بی بی پر ظلم وتشدد کی انتہا کرنے والے طاقتور مجرموں کی حکومتی سرپرستی میں پیٹھ ٹھونکی گئی

ایک طرف بڑے شہروں میں فیشن شوز کے نام پرفوجی حکومت کی سرپرستی میں “سوفٹ امیج ” کی مالا جپی جارہی تھی تو دوسری طرف جرگوں کے ذریعے حکومتی اہلکار خواتین کے خلاف فیصلوں میں شریک تھے

اسلام آباد میں لال مسجد کی چھپر چھاؤں میں خواتین طالبات کو ہاتھ میں ڈنڈے لیےلوگوں کوایک عرصے تک سبق سیکھانے کی” سرکاری اجازت” دی گئی اور پھرجب بیرونی دنیا سےدھمکیاں آنےلگیں توفورا ہی یوٹرن لیتےہوۓ اس ادارے اور اسکی طالبات پرفوجی حملہ کردیا گیا یہ سوچےسمجھےبغیرکہ انسانی جانوں کا ماوراۓ عدالت قتل مزید خون بہا نے کا جواز بنے گا .

یوں مشرف دور نے پاکستان میں دو نظریاتی انتہاؤں کومضبوط کیا ایک طرف مادر پدر آزاد گلوبل ویلج کے دیوانے جنکی اپنی کوئی شناخت نہ تھی اور دوسری طرف طالبنائیزمذہبی انتہا پسندی کے ہاتھ پربیعت کرنےوالےجہادی گروپس اور ان کو سپورٹ کرنے والی عوام کا طبقہ ! امریکہ میں نوگیارہ کےحادثے کے بعد مشرف سرکار کےھتیارڈالنے پریہ تقسیم پاکستانی معاشرے میں واضح تر ہوتی گئی.

ضیا الحق جیسے مذہبی انتہا پسند نے٨٠ کی دھائی میں محترمہ بینظیربھٹو کی سیاسی جدوجہد کو” ایک نوجوان لڑکی ” کی سرگرمیاں قرار دیا تھا تو ٢٠٠٠ء کی دھائی میں “انلایٹن موڈریٹ ” پرویز مشرف نے بین الاقوامی میڈیا کو یہ کہہ کر پاکستانی عورت کی ہتک کی کہ ” یہ بیرونی ممالک میں نیشنیلٹی کے لیے اپنا ریپ کروا لیتی ہیں ” یعنی دونوں انتہاؤں نے اپنے سامنے کھڑی بہادرعورتوں کو کسی دلیل سے شکست دینے کی بجاۓ انکی کردار کشی کر کے قوم کو یہ پیغام دیا کہ عورت وہی بہترہے جو آپکی “اپوزیشن ” نہ کرے اگر وہ آپکی راۓ ،آپکی پسند ، آپکے میعار یا آپکے ارادوں کے درمیان حائل ہے تو اسکی کردار کشی اور اسکو طاقت کے بل بوتے پر زیر کرنا قومی پالیسی کا حصہ ٹہرا

چینی کہاوت ہے کہ باسی مچھلی ہمیشہ سر سے سرانڈ پیدا کرنا شر وع کرتی ہے اور پاکستانی خواتین پر آجکل جو قہر و جبرکے پہآڑ توڑے جارہے ہیں وہ اسی سرانڈ دیتی مچھلی کے گلے سڑے سرکا کمال ہے یہ سرانڈ اب مچھلی کی دُم ” تک پہنچ گئی ہے

صوبہ پنجاب آبادی کے حوالے سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اوریھاں ایک سادہ سا جواز بن جاتا ہے کہ ملک کے تقریبا تمام ہی اداروں میں پنجاب کی نمایندگی بھی سب سے زیادہ ہے فوج ہویا عدلیہ، مقننہ ہو یا میڈیا پنجاب کی آواز سنائی دیتی ہےاسی لیے سیاسی جوڑ توڑ ،فوجی بغاوت یا انتخابی مہمات میں پنجاب پر توجہ مرکوز رہتی ہے ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح نے جس صدارتی انتخاب میں حصہ لیا اسمیں محترمہ کے خلاف کردار کشی کی گئی اور “بنیادی جمہوریتوں “ کے نظام کے ذریعے دھاندلی کا مکمل انتظام بھی کیا گیا. ان تمام ہتھکنڈوں کے بعد جو نتائج آ ئے ایک سرسری سا جایزہ مختلف شہروں کی ووٹنگ پیٹرن کا یہ رہا کہ سندھ سے محترمہ کے ١٢٥٠ اور ایوب خان کے ١٠٣٨،مشرقی صوبے سے ما در ملت نے ٦١٧اور ایوب خان نے٤٩٣اور صوبہ پنجاب کے شہروں سے محترمہ نے ٦٠٠اورجرنیل ایوب نے١٣٦٧ ووٹ حاصل کیے

١٩٦٥ء کے الیکشن کا سفرایک بار پھر ١٩٨٨ میں ایک اورخاتون کی وزیراعظم کے طورپر نامزدگی سے شرو ع کرئیں تو دوبارہ کردار کشی کی سیاست نظر آتی ہے جسکا زورایکبار پھر پنجاب میں ہی رہا جہاں سب سے زیادہ قومی اسمبلی کی نشستیں موجود تھیں بینظیربھٹو کی کردارکشی ١٩٨٨ء کے انتخابات کا بنیادی جز رہی .

آج ملک کے طول وعرض میں ان ڈیکٹیٹروں کے لگاۓ ہوۓ عورت مخالف زہریلے بیج تن آوردرخت بن چکےہیں اورخوب ” پھل پھول” دے رہے ہیں.

ایک سروے کے مطابق سن ٢٠١٤ میں پورے ملک میں دس ہزار جرائیم خواتین کے خلاف ہوۓ ان میں سےساڑھے سات ہزار صرف پنجاب میں ہوۓ اسی طرح سن ٢٠١٥ میں گینگ ریپ کے٢٧٢ کیسس ہوۓ جس میں سے ٢١٣ پنجاب میں ہوئےاور گوکہ پنجاب خواتین کے خلاف جرایم میں سر فہرست ہے مگر پختونخواہ ،سندھ اوربلوچستان بھی خواتین پر”سب اچھا” رپورٹ نہیں کررہے باوجود اسکے کہ بہتر قوانین اسمبلیوں سے پاس کیے جارہے ہیں مگر انتظامیہ اور لوگوں کا عمومی رویہ آج تک دور جہالت کی یاد دلاتا ہے.اکیسویں صدی میں قایم کسی مہذب معاشرے میں ایسا ہونا افسوس کا مقام ہے

تھذیب یافتہ معاشروں کا پہلا اصول ہی کمزور طبقوں کو مضبوط بنانا اور ہرطرح سے انکی قانونی ، معاشرتی ، معاشی اور سیاسی حوصلہ افزائی کرنا ہے مگر ہمارے ہاں آج بھی عورت کواس جنگل نما معاشرے میں یہ مقام حاصل نہیں. ضرورت اس امر کی ہےکہ ” جنگل کے قوانین ” اور” ما ئیٹ ازرائیٹ ” کےخلاف ایک جہاد کیا جاۓ جس کی کمان پاکستان کےاہم ادارے سنبھال لیں مقننہ خواتین کے حقوق پر بل پاس کروا کر بھول نہ جاۓ بلکہ اسکو انتظامیہ سے مکمل لاگو کروایا جاۓ،عدلیہ میں خواتین ججوں کی تعداد بڑھائی جاۓ تاکہ عوام الناس میں خواتین کے ا علی مقام پرموجودگی کے اثرات نمایاں ہوں . خواتین کومعاشی ، معاشرتی ،سیاسی اور مذہبی میدانوں میں آگے بڑھنے کےبہتراورزیادہ موا قع ملنےچاہیں

میڈیا سےخواتین کا “سٹیریوٹائپ ” امیج ختم کروانےکی اورعام لوگوں میں”عورت ایک جسم نہیں دماغ ” کا نظریہ طاقتور بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عورت کو ملکیت یا جنس سمجھنے کا معاشرتی رویہ ترک ہوسکے

زندہ قوم کوزندہ عورت کی ضرورت ہےجوکسی کی مرضی پر چلنے والا ساکت چہرہ نہ ہوبلکہ جیتا جاگتا،سوچتا اپنی مرضی بتاتا ذہن ہواگر کوئی احمق خیال کرتا ہے کہ زندہ لاش ایک محنتی ،ذہین اور دیانتدار قوم کو تخلیق کر سکتی ہے تو اسکو اپنا علاج دماغی اسپتال سے کروانا چاہیے .

میرے درد کو جو زباں ملے

مجھے اپنا نام و نشاں ملے

مجھے کائنات کی سروری

مجھے دولت ِدو جہاں ملے

aina syeda

آئینہ سیدہ نے عملی زندگی کا آغاز ایک استاد کی حیثیت سے کیا اور قلم کا سفر پاکستانی سیاست کے اتار چڑھا ؤ اور معاشرے کی منافقتوں پر اخبارات اور رسائل میں کالم نگاری سے ،احساسات کی ترجمانی کرنے کے لیے شاعری کا سہارا لیتی ہیں اور زندگی کو مقصد فراہم کرنے کے لیے کمیونٹی کو اکثر اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرتی رہتی ہیں -------------------------- ان سے رابطے کے لیے ٹویٹر ہینڈل ہے @A_ProudCivilian

aina has 13 posts and counting.See all posts by aina

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *