میری ذات ذرہ بے نشاں … پہلا حصہ

آئینہ سیدہ

کچھ عرصے سے میڈیا اور سوشل میڈیا کی دنیا سے خواتین پر ہونے والے بہیمانہ مظالم کے خلاف کافی آوازیں ا ٹھ رہی ہیں جو ایک طرف تو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہماری اجتماعی طورپربےحس اور مردہ ہوتی زندگی میں کہیں نہ کہیں روشنی کی ایک کرن ضرورموجود ہے اور یہ امید کی ہلکی سی کرن پاکستان میں بسنے والی عورت نام کی مخلوق کو یقین دلا رہی ہے کہ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا مگر دوسری طرف یہ احساس بھی بہت شدت کے ساتھ ہورہا ہے کہ خواتین کے خلاف جرایم میں پچھلے کچھ عرصے سے بےانتہا اضافہ ہوا ہے اور ان جرایم میں تشدد اور بربریت کا عنصر روز بروز بڑھتا جارہا ہے

یوں تو خواتین کے خلاف جرایم کی فہرست میں پاکستان کا صوبہ پنجاب سب پر بازی لے گیا ہے مگر ایسا بھی نہیں کہا جاسکتا کہ یہ بربریت صرف پنجاب تک محدود ہے . کم پیمانے پر ہی سہی مگر پاکستان کے طول وعرض سے ایسی اندوہناک خبریں آتی رہتی ہیں کہ پسند کی شادی پر لڑکی کواپنے ہی ماں باپ بھائیوں نے قتل کرڈالا یا زندہ جلا ڈالا ، شادی پرانکارکی وجہ سے تیزاب گردی اورگینگ ریپ کا شکاربنا ڈالا ، غیرت کے نام پر کسی بےغیرت نے اپنی بہن ،بیٹی ،بیوی یا جنم دینے والی ماں کو موت کے گھاٹ اتار دیا یا اپنی مرضی کی زندگی گزارنے پر گلا گھونٹ کے مار ڈالا …..“عورت کا اپنی پسند کی زندگی گزا رنا “ تو ایسا عمل ہے جو یقینا ” اس انتہا پسند معاشرے میں ایک بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے

افسوسناک امر یہ ہےکہ تعلیمی اداروں کی آماجگاہ کہلانےوالا شہرہو یا کوئی دور افتادہ گاؤں …… عورت کے خلاف جرایم کی وجوہات اورطاقت کا اندھا اور مجرمانہ استعمال ایک ہی جیسے ہیں بلکہ یوں کہا جاۓ تومبالغه نہ ہوگا کہ جو کچھ ذہنی ترقی، طبقاتی اورجنسی تفریق میں بہتری ہم میں آج سے 40 سال پہلے موجود تھی وہ گلوبل ویلج کی اصطلاح اورجدید ٹیکنولوجی کی آمد کے باوجود دریا برد ہوچکی ہے اوراسکےبہتر ہونےکے کوئی آثار بھی اجتماعی شکل میں نظر نہیں آرہے

بدنصیبی سے ہم نے اپنے ملک کا نام ” اسلامی جمہوریہ پاکستان ” رکھ تولیا ہے مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ نہ ہم اسلامی ہیں نہ جمہوری بن سکے اور پاک بھی بس نام کے ہی ہیں

برسوں پرانی روایتوں نے جاگیردارانہ سوچ کو جلا بخشی جسمیں عورت کا مقام مرد کی ملکیت سے زیادہ نہیں اورچونتیس سال سے زیادہ عرصے پرمحیط آمرانہ طرزحکومت نے” ما ئیٹ ازرائیٹ ” کےجاہلانہ رویےکو ملکی سیاست اورقانون کا درجہ دے دیا

قاید اعظم نے اپنی آخری سانسوں تک جس ا علی تعلیم یافتہ ، ذہین ، خودمختاراور خودار ہمشیرہ کو اپنا رازدان اور بااعتماد ساتھی بناۓ رکھا ہماری ناعاقبت اندیش اشرافیہ نےان پر ہروہ الزام اپنی گھٹیا تقریروں اوربازاری قسم کے اخباری کالم نویسوں کے ذریعے لگایا جس سے”عورت” کی ہتک ہو

جرنیل ایوب کے زمانے میں پرنٹ میڈیا توتھا مگرخدا کا شکر ہی رہا کہ آج کل جیسارنگ برنگے نیوز چینلزسے بھرا فسادی اوربکاؤ الیکڑانک میڈیا نہ تھا ورنہ آج ہم مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کے پراسرارقتل پرانویسٹیگیشن اسٹوری کرنے کی بجاۓ انکی یقینی خودکشی پر بلاگ لکھ رہے ہوتے

حیرت انگیزامریہ ہے کہ آج تک اکثر لوگ ایوب خان کے ” معاشی ترقیاتی کاموں ” پر تعریف کے پل تو باندھتے ہیں مگر انہوں نے جو بانی پاکستان کی بہترین ساتھی کو شکست دینے کے لیے ” خفیہ ذریعہ ابلاغ ” اور پہلے” انتخابی دھاندلی سیل ” کی بنیاد رکھی ، اسکا ذکر ہمارے اکثر بزرگ گول کر جاتے ہیں

یوں پہلی مرتبہ پاکستان میں خود ریاست نے اپنے اداروں کے ذریعے “عورت” اورخاص طور پرایک خودمختار،غیر شادی شدہ اور باوقارعورت کوعوامی حلقوں میں سیاست کی آڑ لے کر بے وقار کرنے کی کوشش کی جو بہت حد تک کامیاب رہی

ایک غاصب گیا تو دوسرا آگیا اس بارملکی کہانی میں عورت کا کردارمزید برے زاویے سے پیش کیا گیا

عیش و نشاط میں ڈوبے جرنیل اپنے فرایض منصبی تو ادا نہ کر پاۓ مگر اپنا تمام تر ملبہ انہوں نے ان عورتوں پر ڈال دیا جنکا کام ہی گانا ، بجانا اور دل لبھانا تھا حالا نکہ دیکھا جاۓ توپاکستان کی تاریخ کےاس بدترین موڑ پر بھی وہ عورتیں اپنا کام

با احسن وخوبی کر رہی تھیں اور ہمارے حکمران نا اہلیت کی مکمل تصویر بنے ہوے تھے مگر اس کہانی کا انجام بھی پاکستانی فلموں اور ڈراموں کی طرح یہی تھا کہ نالائق ،شرابی اور بد چلن حکمران پاکستان کے جھنڈے میں لپیٹ کراورگارڈ آف آنردے کر دفن کیا گیا مگراپنا پیشہ ” دل لگا کر” کرنےوالی عورتیں بازاری ، بدکردار اور پاکستان کی بربادی کا با عث

ٹہرآئی گیں !! گو وہ حمود الرحمان جوڈیشل کمیشن کی سزا وار نہ تھیں مگر جب تک زندہ رہیں ماضی کی کرتوتوں کے طعنے سنتی رہیں

اس المیے کے بعد ایک مختصر جمہوری دور کا وقفہ تھا جس میں خواتین کو انتخابی عمل میں شریک ہونے ، پہلی گورنر بننے ،پہلی ڈپٹی اسپیکر بننے کا موقع ملا اورخواتین میڈیکل کالجز ،خواتین وکلا ، ججز ،انجیرنگ کوٹہ اور خواتین کی ہر شعبے میں نمایندگی کو یقینی بنایا گیا مگر کہاں بربادی کے تیرہ ، چودہ برس اور کہاں بہترموا قع کےصرف پانچ سال

ہوسکتا تھا کہ یہ چند سال کا سفر بھی خواتین کی زندگیوں میں کچھ بہتری لے آتا مگر بدنصیبی نے دوبارہ اس ملک کے نصیب پر آسیب کی طرح سایہ کر لیا

تیسرا” مائیٹ از رائیٹ” کی فلاسفی پرایمان لانے والا آ مر پھرگیارہ سال کےلیے پاکستان پر سواری کرنےموجود تھا. اس باریہ عزاب عوامی حکومت پرتوجو ٹوٹا سو ٹوٹا پاکستان کی خواتین سےتو اس آسیب زدہ آمر نے وہ سلوک کیا کہ تقریبا ” تینتیس سال ہونے کوآ ئے ہیں مگرخواتین کے خلاف ایک عمومی تشدد کا جو رویہ غاصب نےاپنےدورحکومت میں قوانین کے ذریعے نافذ

کیا تھا اسکے اثرات آج تک نمایاں ہیں

خواتین کےخلاف جرنیل ضیا الحق کے امتیازی قوانین،معاشرتی و معاشی امتیازاور سیاسی بدسلوکیاں تاریخ کا حصہ ہیں جس سےانکےسیاسی مریدین توکیا انکی اپنی اولاد بھی انکا ر نہیں کرسکتی

جرنیل ضیا نےعوامی امنگوں کی واحد مرکزبینظیربھٹو اورانکی والدہ کو قید وبند کی صعوبتیں دے کر دوسری خواتین کے لیے عبرت کا نشان بنانا چاہا. عاصمہ جیلانی،حنا جیلانی اوران جیسی بہت سی بہادر خواتین پر یہ دور مصیبتیں لےکرٹوٹا

ٹی وی ڈراموں اور اشتہارات کے ذریعے خواتین کوایک خاص “کٹ آوٹ ” میں فکس کردیا گیا اور ایسا کرنے کے لیے جس اسلام کا سہارا لیا گیا اسکو دوسری طرف سندھ میں کارو کاری اور پنجاب میں نواب پور جیسے شرمناک واقعات کے لیے استعمال کیاگیا. حدود جیسے متنازع قوانین کو اسلام کی قلعی کرکے گلی گلی بیچا گیا اس دور میں خواتین کو یقینی طور پر “جس

کی لاٹھی اسکی بھینس” کےمصداق ہانکا گیا. پڑھی لکھی خواتین کومعاشی اورسیاسی لحاظ سےدیوار کے ساتھ لگا دیا گیا

جاگیردارانہ سوچ کو ڈنڈے کے زور پر اداروں میں نافذ کیا گیا گرلزاسکولزکی یونیفارمزمیں رد و بدل سے لے کرعورت کی گواہی کے قوانین تک ہرمعاملے میں انتہا پسند ملاہیت کو مقدم رکھا گیا. خودمختار خواتین کی حوصلہ شکنی کی گئی طلباء یونین ، مزدوریونین کو سوسایٹی کے کمزرحلقوں کی آواز بننے نہ دیاگیا اس تمام عرصے میں ایک عمومی تاثر یہی رہا کہ ثقافت،مذھب،روایات ہوں یا سیاست،معیشت اورانصاف کا حصول …. عورت کمزور،ناقص العقل اورمعاشرے کے بگاڑ کی وجہ ہے.

سن چھیاسی میں بینظیر بھٹو کی پاکستان آمد اورمختلف شہروں میں انکے لیےلاکھوں جیالوں کا والہانہ استقبال دیکھ کر غاصب نےاپنی ذہنی سطح دیکھائی اوراپنے پیشروؤں کی طرح ایک اعلی تعلیم یافتہ، ذہین اورخودمختارسیاستدان کو جو

اسی آ مر کے ہاتھوں چھ سال قید کاٹ چکی تھیں یہ کہہ کر بے عزت کرنے کی کوشش کی کہ عوام کو بینظیر کی سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں بلکہ وہ تو ایک نوجوان لڑکی کو دیکھنے کے شوق میں چلے آتے ہیں

یہ جملےبتانےکےلیے کافی ہیں کہ پاکستان اوراسکےایک مضبوط ادارے پرگرفت رکھنے والے شخص کی ذہنی سطح کس قدرگری ہوئی تھی اوروہ اپنی اپوزیشن میں کھڑی ایک خاتون کوگھٹیا جملوں کےذریعے عوامی سطح پر بے توقیر کرنے کے

ساتھ ساتھ عورت ذات کو مذاق اور لطف اٹھانے کا سامان قرار دے رہا تھا

حقیقت حال یہ ہے کہ ایک انسانی معاشرے کو ہر طرف سے کھینچ تان کر “جنگل ” بنانے کی جو کوشش جرنیل ضیا الحق نے کی تھی اس کے اثرات اتنے دیر پا ہیں کہ ہمارا معاشرہ باوجود بہادر خواتین اور ترقی پسند سوچ کے حامل مردوں کی بے مثال قربانیوں کے، اس پستی سے نکلنے کی راہ نہیں پارہا

( جاری ہے )

aina syeda

آئینہ سیدہ نے عملی زندگی کا آغاز ایک استاد کی حیثیت سے کیا اور قلم کا سفر پاکستانی سیاست کے اتار چڑھا ؤ اور معاشرے کی منافقتوں پر اخبارات اور رسائل میں کالم نگاری سے ،احساسات کی ترجمانی کرنے کے لیے شاعری کا سہارا لیتی ہیں اور زندگی کو مقصد فراہم کرنے کے لیے کمیونٹی کو اکثر اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرتی رہتی ہیں -------------------------- ان سے رابطے کے لیے ٹویٹر ہینڈل ہے @A_ProudCivilian

aina has 13 posts and counting.See all posts by aina

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *