پلاسٹک کھاجانے والی پھپوند، جراثیم، یا خامرا تحقیق کا سہرا کس کے سر؟

تحریر: یمین الاسلام زبیری: 

کوئی ایک سال سے اوپر ہوگیا ایک خبر دو مختلف ذریعوں سے ملی۔ ان ذریعوں نے بات تو ایک ہی بتائی، یعنی پلاسٹک کو ختم کرنے کا ایک نسخہ ہاتھ آگیا ہے۔ لیکن یہ نسخہ کس کے ہاتھ آیا ہے اس بارے میں دونوں ذرائع کی اطلاع الگ ہے۔ ایک کہتا ہے کہ یہ پاکستان اور چین کے مشترکہ تحقیق کا نتیجہ ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے کہ جاپان میں دریافت کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں چونکہ پاکستان کی آن، بان اور شان دائو پر لگتی ہے اس لیے یہ بات ہمارے لیے ذرا نازک ہوجاتی ہے۔ یہاں ہم یہ تو دیکھ سکتے ہیں کہ کس نے کیا دعوی کیا ہے لیکن یہ نہیں بتا سکتے کہ کون سا مدعی درست ہے۔ لیکن ہم یہ سوال ضرور کریں گے کہ آخر سہرا بندھنا کس کے سر چاہیے ہے؟

یہ ایک سال پہلے کی بات ہے کہ پاکستان کے مشہور زمانہ اخبار ڈان انگریزی میں ایک خبر نظر سے گزری جس کا عنوان تھا، ‘”پلاسٹک ایٹنگ” فنگس ڈسکورڈ  ان اسلام آباد۔’ خبر کی تفصیل تھی کہ پاکستان اور چین کے نو محققین نے ایک رپورٹ لکھی کی ہے جس میں بتایا ہے کہ پلاسٹک جس کو آج تک ایک ایسا مادہ سمجھا جاتا رہا ہے جو ایک بار وجود پالے تو اسے ختم ہونے میں صدیاں لگ سکتی ہیں۔ لیکن اب ایک تحقیق کے نتیجے میں ایک ایسی پھپوند سامنے آئی ہے جو پلاسٹک کو کھا کر ختم کر دیتی ہے۔

اس تحقیق کی نگراں مصنف ڈاکٹر سہرون خان، مرکز جنگل و زراعت سے ہیں۔ یہ تحقیق مرکز جنگل و زراعت، نیروبی، کینیا، اور چین کے کنمنگ ادارہ حیاتیات کی مشترکہ کاوش ہے۔

اس تحقیق کے مطابق یہ پھپوند پلاسٹک کو چند ہفتوں میں کھا کرختم کر دیتی ہے۔

ڈاکتر خان کے مطابق یہ پھپوند اسلام آباد میں ایک کچرے کے ڈھیر سے لیے گئے نمونوں کے مشاہدے کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔

اس سلسلے میں دوسری خبریں ہمیں جن ذرائع سے ملتی ہیں وہ ہیں جریدے پاپولر سائنس، سی این این کی وبگاہ، گارڈین، جریدہ فارچون اور اور بہت سے ذرائع سے جن تک ہماری رسائی یاہو اور گوگل کے ذریعے ہوتی ہے۔

ان دوسری خبروں کے مطابق جاپانی سائنس دانوں نے سمندر میں گرے پلاسٹک کو کھاجانے والے جراثیم کا پتا چلایا ہے۔ صرف پروسیڈنگز آف نیشنل اکیڈمی آف سائنسز اسے جراثیم نہیں بلکہ خامرا کا کہتا ہے۔

یہ سب ذرائع بتاتے ہیں کہ جاپانی سائنس دان حادثاتی طور پر پلاسٹک کے پھیلے ہوئے کوڑے میں ان جراثیم تک پہنچ گئے۔

ان تمام جرائد اور وبگاہوں پر پاکستان میں ہونے والی تحقیق کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ پاکستان میں ہونے والی تحقیق اس وجہ سے زیادہ اہم ہے کہ یہ زمین پر پائے جانے والے اس قسم کے جراثیم کا پتا دیتی ہے۔ اسی طرح ڈان کی خبر جاپان میں ہونے والی تحقیق کے بارے میں خاموش ہے۔

ڈان انگریزی میں یہ خبر ۲۰ ستمبر ۲۰۱۷ کو چھپی تھی، جب کہ گارجین میں چھپنے والی خبر مارچ ۲۰۱۶ کی ہے؛ پاپولر سائنس میں یہ اپریل ۲۰۱۸ میں چھپی تھی؛ اور فارچون میگزین میں یہ خبر مارچ ۲۰۱۶ میں آئی تھی۔ جبکہ ڈان انگریزی میں ستمبر ۲۰۱۷ میں چھپی تھی۔

ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہیے کہ امریکہ میں اوباما کے دور میں بیس اپریل ۲۰۱۰ میں خلیج میکسیکو میں ایک تیل  کے کوئیں میں دھماکہ ہوا تھا اور اس کے بعد سمندر میں ٹنوں تیل بہہ نکلا تھا۔ یہ کنواں برما شیل کا تھا۔ تیل کے کوئیں کو تو بحال کردیا گیا مگر کچھ عرصے تک ہزار جتن کیے جاتے رہے کہ سمندر تیل سے صاف ہوجائے لیکن ہر ہربہ ناکام ہی جا رہا تھا۔ پھر ایک دن خبر آئی کہ سمندر میں ایک قسم کا جرثومہ پایا جاتا ہے جو اس خام تیل کو کھا کر ختم کر رہا ہے اور چند ہی دن میں وہ سمندر صاف ہوگیا۔ پلاسٹک کا تیل سے چونکہ بہت گہرا تعلق ہے تو محقیقین کو اس جرثومے پر بھی تحقیق کرنی چاہیے۔

Yemeen Zuberi

Yemeen ul Islam Zuberi is an ex-journalist from Pakistan. He writes in Urdu and rarely in English. Besides essays, he also writes poetry. In Pakistan, he worked for different newspapers for 20 years. Now lives in the US.

yemeen has 7 posts and counting.See all posts by yemeen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *