پاک-بھارت کشیدگی : پالیسی سازی مفروضوں کی گرداب میں  

ایمل خٹک 

کہتے ھیں کہ بلی کو آس پاس دیکھ کر کبوتر فورا اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے یہ سوچ کر کہ شاید بلی بھی اس کو نہ دیکھ سکے گی۔ اور اس طریقے سے اس کی جان بچ جائیگی ۔ بلکل یہی حال ھمارے پالیسی سازوں کا بھی ھوگیا ہے اور جو کچھ وہ کرتے ھیں سوچتے ھیں ان کا خیال یہ ھوتا ہے کہ دنیا اس کو نہیں دیکھتی یا نہیں سمجھ سکتی ۔ یہ کبوتر کی طرح ھماری بھول ھوتی ہے ۔ یہ کبوتر کی طرح باھر کی حقائق سے چشم پوشی اور سخت خوش فہمی یا غلط فہمی ھوتی ہے ۔ کبوتر کی طرح ھم آنکھ بند کرے یا نا حقائق اپنی جگہ موجود ھوتے ھیں۔

ھمارے پالیسی سازوں پر موضوعی سوچ ( سبجیکٹو) اتنی حاوی ھو چکی ہے کہ ان کی معروضی سوچ  ( ابجیکٹیو) ماؤف لگتی ہے جبکہ حقیقت پسندانہ سوچ کا سخت فقدان ہے۔ اس صورتحال میں آزاد تجزیہ نگاروں اور صاحب الرائے افراد کے پاس دو راستے ھیں ۔ یا تو پالیسی سازوں کے خودکش پالیسی حملوں میں ان کا ساتھ دیا جائے اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے ٹھوس حقائق سے چشم پوشی کی جائے  اور بے بنیاد مفروضوں اور خیالی پلاؤ پکانے کے عمل میں ان کا ساتھ دیا جائے اور قوم کو تباہی اور بربادی کے اتھاہ گہرائیوں میں دھکیلا جائے اور دوسرا طریقہ ہے کہ پالیسیوں سازوں کے بیانیوں کو چیلنج کیا جائے۔ اور ان بیانیوں کی کھو کھلا پن کو آشکارہ کرنے کے ساتھ ساتھ اصلاح احوال کیلئے کوشش کئ جائے۔

ان ریاستی بیانیوں کو چیلنج کرنا ایسے وقت میں جب ریاستی اداروں اور اس کی زیر کنٹرول میڈیا اور پروردہ دانشوروں نے ایک جذباتی فضا پیدا کی ھو اور ایک مصنوعی اور سطحی قسم کی سپر نیشنلزم کو قوم پر حاوی کیا گیا ھو میں حقائق سنانے اور سننے کیلئے کوئی تیار نہیں ھوتا۔ اور حقائق بیان کرنا ایسے ھوتا ہے جیسے بھینس کے آگے بین بجانا کیونکہ جب جذباتیت اور جنونیت زور پر ھوتی ہے تو عقل اور شعور اس کے سامنے بے بس ھو جاتا ہے ۔

پاک-بھارت کشیدگی نے ایک دفعہ پھر مسلہ کشمیر کے ساتھ ساتھ دھشت گردی کے مسلے کو اجاگر کیا ہے۔ اڑی حملے اور پاک-بھارت کشیدگی کے حوالے سے ھمسایہ ممالک ، علاقائی اور عالمی قوتوں کے بیانات اور موقف ھمارے پالیسی سازوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ ایک تلخ حقیقت کہ پاکستانی حکومت ، میڈیا اور تجزیہ نگاروں کے دعووں اور موقف کے بر عکس بیرونی دنیا دھشت گردی کے مسلے پر بھارت کے ساتھ کھڑی نظر آ رہی ہے ۔ مفروضوں اور کھوکھلی دلیلوں سے جو مقدمہ ھم پیش اور لڑ رئے ہے اندرون ملک چند انتہاپسند اور جنگ پرست حلقوں کے اس کو کئی اور پزیرائی نہیں مل رہی ہے۔ ھاں ریاستی پروپیگنڈا کی ماری عوام کی بات اور ہے جن کو صبح اور شام ایک ہی پٹی پڑھائی جا رہی ہے۔

بیرون ملک ھمارے موقف کو پزیرائی حاصل نہ ھونے کی وجہ بھارتی سورماوں کا کمال نہیں بلکہ اس حالت تک پہنچنے میں ھمارے پالیسی سازوں کی ناعاقبت اندیشی ان کی تنگ نظر اور محدود سوچ کا زیادہ عمل دخل ہے۔ اڑی حملہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں اپنی نوعیت کی نہ تو پہلی کاروائی ہے نہ آخری ۔ یہ حملہ کشمیری مجاھدین نے کیا ہے یا خود بھارتی ایجنسیوں نے یا کسی تیسری قوت نے لیکن شک کا فائدہ بھارت کو پہنچ رہا ھے کیونکہ پاکستان کی حمایت یافتہ عسکریت پسند کشمیر میں اس قسم کی کاروائیوں کیلئے پہلے سے ہی بدنام ھیں۔ یہ طریقہ واردات عسکریت پسندوں کا ہے۔

چاہے ممبی حملہ ھو یا پٹھان کوٹ انکار کی پالیسی ھر جگہ نمایاں ہے مگر بعد میں عسکریت پسندوں کی شرکت ثابت ھو جاتی ہے ۔ اگر بیرونی دنیا کی آنکھوں میں دھول جونکنا مقصود ھو تو وہ کوئی دوست ملک ھو یا دشمن ان میں سے کوئی بھی ھمارے موقف کو ماننے کیلئے تیار نہیں ۔ البتہ اگر اپنے عوام کو اندھیرے میں رکھنا مقصود ھو تو اس میں کسی حد تک ھمارے پالیسی ساز کامیاب ھو جاتے ھیں۔

جرم کی سائنس میں یہ سبق پڑھائی جاتی ہے کہ ھر مجرم اپنے پیچھے سراغ چھوڑتا ہے ۔ اب ڈیجٹل دور میں عسکریت پسند چاہے جتنے بھی چالباز اور چالاک کیوں نہ ھو اپنے پیچھے سراغ چھوڑ دیتا ہے۔ اب اس سراغ کو ڈھونڈنے کیلئے جیو فیسنگ وغیرہ کے طریقے استعمال ھوتے ھیں۔ خطے میں سرگرم عمل عسکریت پسند مواصلات کے جدید ترین آلات کے استعمال کے ماہر ھیں۔ اس وجہ سے چاہے پاکستان ھو یا بھارت بہت جلد سراغ لگا لیتے ھیں۔

بھارتی وزیراعظم کی پیروی میں بنگلہ دیش، افغانستان اور بھوٹان کا اسلام آباد میں ھونے والی سارک سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے سے معذرت کی۔ اور اڑی حملے کے حوالے سے بھارتی موقف کی تائید کرتے نظر آرہے ھیں۔  امریکہ اور روس نے دونوں ممالک سے جنگ سے اجتناب ، تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنے اور مزاکرات کے زریعے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔  امریکہ نے اڑی حملے کو دھشت گرد حملہ قرار دیتے ھوئے علاقے میں دھشت گردی کے خاتمے پر زور دیا ہے اور پاکستان سے لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک  کے خلاف کاروائی کا دیرینہ مطالبہ دھرایا ہے۔

اروس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین سے دھشت گرد گروپوں کی سرگرمیاں روکنے کیئے موثر اقدامات اٹھائے گا۔  پاک-روس مشترکہ فوجی مشقوں کے انعقاد سے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئ کہ شاید پاک-بھارت کشیدگی میں روس پاکستان کا ساتھ دئیگا۔ جبکہ اس دوران ولاڈی واسٹک میں ھونے والی بھارت -روس مشترکہ فوجی مشقوں کا یا تو پاکستانی تجزیہ نگاروں کو پتہ نہیں چلا اور یا انہوں نے اس کو درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ اس تاثر کو زائل کرنے اور کچھ دیگر وجوھات کی بنا پر روس ایک واضع موقف سامنے لانے پر مجبور ھوا۔

چین اور ایران کا موقف بھی بڑا دلچسپ ہے اور دونوں ممالک کسی ایک فریق کا واضع طور پر ساتھ دینے سے اجتناب کرتے ھوئے پاکستان اور بھارت کو مشترکہ دوست قرار دے رہے ھیں۔ جمعہ کے روز ھفتہ وار بریفنگ کے دوران چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دونوں ھمسایہ ممالک کے دوست کے حیثت سے چین کو پاک – بھارت کشیدگئ اور تناؤ میں اضافے پر تشویش ہے اور دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ صبر اور تحمل سے کام لیں اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کریں۔  اس طرح ایران نے بھی دونوں دوست اور ھمسایہ ممالک پاکستان اور بھارت سے صبر اور تحمل اور مشکلات کو بات چیت کے زریعے حل کرنے پر زور دیا ہے ۔ ایران نے مزید کا ہے کہ کشیدگئ بڑھنے سی دھشت گردوں انتہاپسندوں  اور اس کے حامی ملکوں کو علاقے میں کشیدگئ کو ھوا دینے اور عدم استحکام پیدا کرنے کا موقع ملے گا۔

اسلحہ کی انبار یا ایٹمی ھتھیار تو ایک ڈیٹرنس دیتا ہے مگر عزت اور وقار اپنے ھاتھوں میں ہے ۔ اور عزت اور وقار کیلئے اکسیویں صدی کے تقاضوں کے مطابق چلنا ھوگا ۔ اور اپنے آپ کو ایک ذمہ دار اور مہذب قوم ثابت کرنا ھوگا ۔

ایک ایسا ملک جو سیکورٹی اسٹیٹ نہیں بلکہ فلاحی ریاست ھو۔ جہاں کے شہریوں کو مسلمہ انسانی حقوق کے اصولوں اور قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کیلئے سازگار ماحول مہیا ھو۔ جہاں کے اکثریتی شہریوں کو پرامن اور باعزت زندگی گزارنے کیلئے بنیادی آسائشات اور سہولیات میسر ہے۔  اور دنیا کے دیگر اقوام اس کو دھتکارے نہیں یا ان سے خائف یا اس کو مشکوک نظروں سے دیکھنے کی بجائے اس کو عزت اور احترام دے۔

جب سفارتی تہنائی بڑھتی ہے تو ایٹمی ھتھیار استعمال کرنے کی دھمکی جب تھوڑی بہت کشیدگی بڑھتی ہے تو جوہری ھتھیار استعمال کی دھمکی آخر ان دھمکیوں کی استعمال سے ما سوائے یہ ہے کہ ھم اپنے آپ کو ایک غیر ذمہ دار ملک ثابت کرے اور کچھ حاصل نہیں ھوگا کہونکہ دنیا میں چاہے دوست ہے یا دشمن سب کو پتہ ہے کہ پاکستان ایک جوہری قوت ہے اب اس بات کو بار بار جتلانے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ۔  غیر ذمہ داری اور غیر سنجیدگی کی انتہا دیکھو کہ عسکریت پسند سے لیکر وزیر تک سب دبے الفاظ یا کھلے الفاظ میں جوہری ملک ھونے یا جوہری ھتھیار کی استعمال کی دھمکیاں دیئے پھر رہا ہے ۔ کسی پر کوئی روک ٹوک نہیں ۔ یہ قرون وسطی یا قبائلی روئے ھیں ۔ اکسیویں صدی کے رویے نہیں ہے ۔

یہ تو شکر کریں اس معصوم بچی ملالہ یوسفزئ کا کہ دنیا بھر میں کچھ اچھا امیج بن گیا ہے اور بیرون ملک پاکستان کا نام سنتے ہی فورا ایک معصوم لڑکی جو امن اور تعلیم کی بات کرتی ہے آجاتا ہے ورنہ پہلے تو پاکستان کا نام سنتے ئی ان کے ذھن میں ایک ڈراونئ شکل والے کلاشنکوف بردار دھشت گرد کی تصویر ابھرتی تھی۔

اقوام عالم میں پاکستان کا امیج خراب کرنے والے کوئی اور نہیں خود پاکستانی ہے ھماری ریاست ہے اس کی غلط اور ناعاقبت اندیش پالیسیاں ھیں ۔ اب اگر بھارت یہ دعوی کرتا ہے کہ ھم پاکستان کو تہنا کر دینگے تو اس کی اتنی مجال نہیں مگر آگر آج پاکستان تہنا کھڑا ہے یا تہنائی کی طرف جا رہا ہے تو اس میں بنیادی ذمہ داری پاکستانی ریاست کی ہے اس کی غلط داخلی اور خارجی پالیسیوں کی ہے ۔

پاکستان کی کھلم کھلا یا در پردہ عسکریت پسندوں کی حمایت کی پالیسی اور عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں  پاکستان کو سفارت تہنائی کی طرف دھکیل رہی ہے ۔ یہ عسکریت پسندوں کی کاروائیاں ہے جو سرحدوں پر کشیدگی کا باعث بن رہی ہے چاہے وہ بھارت کے ساتھ سرحد ہے یا افغانستان کے اور ایران کے ساتھ عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے غیر محفوظ رہتا ہے اور یا کشیدگی بڑھتی ہے۔

مرض کی علامات کی علاج کے ساتھ ساتھ اس کی وجوھات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ پالیس ساز اور ریاستی بھونپو میڈیا اور دانشور قصدا مرض کی وجوھات یا اسباب کو نظر انداز جبکہ عوام کے کچھ حلقے ریاستی بیانیوں کے زیر اثر اور کچھ اپنی سادگی اور نادانی کی وجہ سے اس پر بات نہیں کرتے۔  مرض کی وجوھات کو چھیڑے بغیر اس کا دائمی علاج ناممکن ہے ۔ اور یہی ھو رہا ہے ۔ دھشت گردی یا اس کی ماں انتہاپسندی ، عسکریت پسندی یا اس کی ماں ریاستی پالیسیاں اس وقت تک ختم نہیں ھو سکتی جب علاج کی علامات کے ساتھ ساتھ اس کو جنم دینے والے وجوھات کو ختم نہ کیا جائے۔

مہذب معاشروں کو ناپنے کے کئی پیمانے ھو سکتے ھیں ۔ ایک پیمانہ انسانی حقوق کا ہے کہ کیسی ملک کے شہریوں کو رنگ، نسل، زبان،  جنس ، عقیدہ اور مذھب  کی بنیاد پر امتیاز کے بغیر زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے یا نہیں اس کے ساتھ ان عوامل کی وجہ سے امتیاز برتا جاتا ہے ۔ ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ ھمارا قومی ھیرو بنانے کا معیار کیا ہے اور ھم اپنے قومی ھیروز یا ممتاز شخصیات کو کتنا عزت و احترام  کرتے ھیں اور ھم علم و دانش کی کتنی قدر کرتے ھیں ۔

لمحہ فکریہ یہ ہے کہ جو خوشی ھم نے جوہری قوت بنے پر منائی اور جو عزت و احترام ھم نے جوہری ھتھیار بنانے والوں کو دیا جو مقام اور عزت چاغی پہاڑ اور میزائلوں کو ملی اور ملک کے تمام بڑے چوکوں میں جس طریقے سے اس کو سجایا گیا اور ابھی تک جوہری دھماکوں کے دن کو یوم تکبیر کے طور پر منایا جاتا ہے اس کی رتی بھر عزت بھی ھم نے اپنے دونوں نوبل انعام پانے والی شخصیات یعنی ڈاکٹر عبدالسلام اور ملالہ یوسفزئی کو نہیں دی جہنوں نے پاکستان کو اقوام عالم میں عزت بخشی اور مثبت امیج  بنانے اور علم ، تعلیم دوستی اور امن پسندی کے حوالے سے شناخت کرائی ۔  دوسری طرف حال یہ ہے کہ یہ دونوں شخصیت ان کی زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے ملک جا نہیں سکتی اور اگر یہ دونوں شخصیات اندرون ملک ھوتی تو کب کا کسی جنونی دھشت گرد کا نشانہ بنی ھوتی۔

ملک میں ایک ایسا تنگ نظری اور انتہاپسندی کا ماحول بن گیا ہے کہ دنیا میں نوبل انعام قوموں اور ملکوں کیلئے انتہائی فخر کی بات ھوتی ہے اور کسی ملک کے شہری کو نوبل انعام کا ملنا اس شہری کے ساتھ ساتھ اس ملک کیلئے بھی باعث افتخار بات ھوتی ہے اور اس ملک کی بیرون ملک وقار اور عزت او تکریم میں اضافے کا باعث بنتی ہے ۔ مگر ھمارے ہاں ھم نے دونوں کو متنازعہ بنایا ہے۔ نہ صرف تعصب سے ھم ان کا نام تک نہیں لیتے بلکہ پاکستان میں ان کی زندگیوں کو ھر قسم کے خطرے لاحق ھیں۔

اب ان خودکش مغالطوں سے نکلنے کی ضرورت ہے ۔ داخلی اور خارجہ پالیسیوں پر تجدید نظر کی ضرورت ہے ۔ اور نئی پالیسیاں وضع کرنے کیلئے وسیع مشاورت کی ضرورت ہے۔ ملک کو درپیش بحران اور چیلنجز اتنے سنگین اور گمبھیر ھیں کہ اس کا حل کسی ایک فرد یا ادارے کی بس کا کام نہیں اس کیلئے مشترکہ سعی کی ضرورت ہے۔ اب خوش فہمیوں اور غلط فہمیوں کی دلدل سے نکلنا ھوگا ۔ اس میں تاخیر مزید تباہی کا باعث بنے گا۔  پاک-بھارت کشیدگئ کا نتیجہ دو بدو لڑائی کی صورت میں نکلے گا یا نہیں اس سے قطع نظر دھشت گردی کے مسلے پر دو ٹوک اور واضع موقف اختیار کرنے کے بغیر کام نہیں چلے گا۔  کیونکہ ایک سے زائد دفعہ عسکریت پسندوں کی کاروائیوں کے نتیجے میں سرحدوں پر جنگ کی کیفیت پیدا ھو جاتی ہے۔

Aimal Khattak

The author is a political commentator mainly covering socio-political and peace issues. He frequently comments on regional issues, especially Afghanistan. Aimal Khattak can be contacted at: aimalk@yahoo.com

aimal has 77 posts and counting.See all posts by aimal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *