علاقائی امن اور پشتون قوم کا مقدمہ 

ایمل خٹک 
پشتون سوشل میڈیا موومنٹ
وزیر اعظم پاکستان کی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں تقریر میں کشمیر سمیت تمام باھمی تنازعات کا مزاکرات کے زریعے حل کرنے پر زور اور وزیراعظم نریندرا مودی کا حالیہ بیان جس میں اڑی دھشت گرد حملے کی ردعمل میں جنگ نہ کرنے کا واضع عندیا دیا ہے بہت خوش آئند بات ہے ۔  مگر علاقے میں امن اور استحکام کیلئے باتوں سے زیادہ اب نیک نیتی سے عمل کی ضرورت ہے۔
بھارتی وزیراعظم سے بہت سے امور اور ایشیوز پر سیاسی اور نظریاتی اختلاف اپنی جگہ مگر اس بیان سے انہوں نے سیاسی بلوغت اور پختگی کا ثبوت دیا ہے ۔  نریندرا مودی نے دونوں ممالک میں موجود سماجی شعبے کی بدحالی اور عوام کی مشکلات کا ذکر کیا اور غربت کے خلاف جنگ اور اس جنگ میں مقابلے اور اس میں بازی لینے پر زور دیا ہے۔
دونوں ممالک میں غربت کا یہ حال ہے کہ پینتیس کڑور عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ھیں ۔ ایک طرف غربت کا یہ حال اور دوسری طرف دونوں ممالک کا سالانہ دفاعی بجٹ ساٹھ ارب ڈالر ہے ۔ پاکستان اٹھ ارب اور بھارت باون ارب ارب ڈالر دفاع پر خرچ کرتا ہے جبکہ تعلیم اور صحت کے شعبے کیلئےانتہائی کم وسائل رکھے جاتے ہے۔
دونوں ممالک کے بیچ کشیدگی اور تناؤ کی فضا میں جھوٹی انا اور جنونیت کی خاطر جنگ برپا کرنے کی بجائے عوام کے حقیقی مسائل اور مشکلات پر توجہ دینا ایک غیر معمولی بات ہے ۔ ان کے اس بیان یا موقف سے دونوں ممالک میں انتہاپسند اور جنگ پرست حلقوں کو مایوسی ھوئی ھوگی مگر با شعور امن پسند حلقوں اور کڑوروں عوام نے سکھ کا سانس لیا ھوگا ۔
نیتوں کا حال تو خدا بہتر جانتا ہے مگر دونوں ممالک میں غربت کے خلاف جنگ اور اس جنگ میں ایک دوسرے سے بازی لینے کی بات بہت بڑی بات ہے۔
 اگر کوئی اور اشتعال انگیزی کا واقع نہ ھوا تو فی الحال دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا خطرہ ٹل گیاہے۔ مگر لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان روایتی جنگ کی بجائے دیگر طریقوں سے ایک دوسرے کو مات دینے کی کوشش کرئینگے۔  کشیدگی اور تناؤ میں کمی کی بجائے اضافے کا امکان ہے۔ دونوں طرف کے جنگ پرست اور انتہاپسند حلقے جن کا مفاد علاقے میں کشیدگی اور تناؤ کی فضا کو قایم رکھنے اور بڑھانے میں ہے اس سنہرے موقع کو ھاتھ سے جانے نہیں دینگے۔
پشتون بیلٹ خاص کر خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ عسکریت پسندی اور فوجی آپریشنوں کی وجہ سے تباہ و برباد ھوچکا ہے۔ صنعت ، زراعت ، سیاحت اور کاروبار زبوں حالی کا شکار ہے۔ غربت اور بیروزگاری بڑھ چکی ہے۔  شورش زدہ پشتون بیلٹ میں جنگ کے نام سے عمومی نفرت موجود ہے۔ اوپر سے منظم انداز میں ایک تھوپی گئی جنگ کے شکار پشتونوں سے زیادہ کس کو جنگ کی تباہ کاریوں ، نقصانات اور  منفی اثرات کا احساس ھوگا۔
پشتون سرزمین پر تنازع کے ختم ھونے کے دور دور تک آثار نہیں ہے۔ پشتونوں کی سیاسی نسل کشی کسی نہ کسی شکل میں منظم انداز  میں ابھی تک ختم نہیں ھوئی ۔ پشتون سیاسی اور قبائلی مشران کی ٹارگٹ کلنگ اور دھماکوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ کویٹہ ، مردان اور مھمند ایجنسی کے حالیہ دھماکے اور عسکریت پسندوں کی تعلیمی اداروں کو دھمکیوں کے بعد فضل حق کالج مردان کی بندش اس بات کی غمازی کر رہی ہے کہ پشتون سرزمین ابھی تک نشانے پر ہے۔
دھشت گردوں کے خلاف آپریشن کے نام پر پشتون سرزمین کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی . ریاست کے دسترس میں جوہری ھتھیاروں کے علاوہ جو بھی جدید ترین ھتھیار تھےوہ استعمال ھوئے۔  جبکہ دوسری طرف پنجاب شریف میں مجوزہ آپریشن جو پشتون علاقوں میں کئے گے آپریشن کی طرح آپریشن نہیں بلکہ کمبنگ آپریشن ھوگا وہ بھی ابھی تک شروع نہ ھو سکا۔
 شورش زدہ علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی زیادتیوں کی شکایات ختم ھونے کا نام نہیں لے رہی ۔ شمالی وزیرستان کے علاقہ محمد خیل ، بویا میں میں قبائلی جوان حکیم اللہ کی ھلاکت اور اس پر قبائلیوں کا احتجاج اور اس کے بعد علاقے میں غیر معینہ مدت کیلئے کرفیو سے وہاں پر رہنے والے عوام کی تکالیف اور مشکلات  کی عکاسی ھوتی ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راھداری منصوبہ میں پنجاب کو خوش کرنے کیلئے پشتون بیلٹ کو نکالنے، نظرانداز کرنے یا برائے نام حصہ دینے اور بارڈر منجمنٹ کی آڑ میں پشتون تاجروں ، ٹرانسپورٹروں اور ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلقہ دیگر کاروبار پر مختلف قسم کی قدغنوں سے پشتونوں کی معاشی نسل کشی بھی جاری ہے۔
اس طرح فاٹا میں اصلاحات کے مسلے کو دانستہ طور پر اور غیر ضروری طول دی جارہی ہے۔  شمالی وزیرستان میں قبائلیوں کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کی کوشش، چلغوزوں کی نصف آمدن  کو بزور ھتھیانا وغیرہ انتہائی افسوسناک واقعات ھیں۔ چلغوزوں کی آمدن ھتھیانے کے عمل سے بابڑہ کی یاد تازہ ھوگئ جب پرامن مظاھرے میں ھلاک اور زخمی ھونے والے خدائی خدمتگاروں سے ان پر چلائی جانے والی گولیوں کا خرچہ بھی وصول کیا گیا تھا۔  اور قبائلیوں سے نو آبادکاری کے نام پر چلغوزوں کی نصف آمدنی لی جا رہی ہے۔
پاک-بھارت بڑھتی ھوئی کشیدگی سے پشتون عوام میں تشویش اور خوف کا پیدا ھونا فطری امر تھا۔ کچھ سادہ لوح گل خانوں کو چھوڑ کر اکثر باشعور پشتونوں نے اس موقع پر جنگی جنون کی بجائے ایک مثبت اور امن پسند رویہ اختیار کیا۔ جنگی جنون ، کھوکھلی اور مصنوعی حب آلوطنی کی فضا میں عقل اور شعور یا ھوش کی بات کرنا کوئی اسان بات نہیں ھوتی ۔ بہت سے ساتھیوں کو مختلف قسم کے طنعے اور الزامات سننے کو ملے۔ ویسے بھی پاکستان میں کفر کے فتوے لگانا اور غداری کے تمغے بانٹنا اتنا عام ہے کہ یہ کوئی اچنبھے یا پریشانی کی بات نہیں رہی۔
پاکستان اور علاقے میں امن ملک میں بسنے والی تمام  قومیتوں اور خصوصا جنگ سے تباہ حال پشتون قوم کی مفاد میں ہے۔  مبارکباد اور تحسین کے مستحق ہے وہ باشعور پشتون جنہوں نے جذبات کی رو میں بہنےیا جوش میں بات کرنے کی بجائے مثبت اور امن  کے حق میں عقل و شعور سے بات کی۔ اور منطق اور دلیل سے جنگی جنونیت کو رد کیا۔ جو ان کی امن پسندی ، اعلی سیاسی شعور اور پختگی کی علامت ہے۔
ویسے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اڑی واقعے سمیت ایک سے زائد مبینہ دھشت گردی کے واقعات جس کا الزام پاکستان میں موجود عسکریت پسند گروپوں پر لگایا جاتا ہے کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت میں کشیدگی اور تناؤ اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ سرحدوں پر جنگ کی صورتحال پیدا ھو جاتی ہے اور دونوں طرف طبل جنگ بجنا شروع ھو جاتا ہے۔  پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات اور مشکلات سے دو چار کرنے والے ان عسکریت پسند تنظیموں کو برداشت کرنے کی آخر کیا منطق ہے ۔  جبکہ یہی عسکریت پسند پاکستان کی سفارتی تنہائی کا باعث بن رہے ھیں۔
قدرتی وسائل پر اختیار اور اس سے حاصل ھونے والی آمدن اور اس کے حصول میں مرکز کی ھیرا پھیری ابھی تک بڑا مسلہ ہے۔ بجلی کے رائلٹی کا دیرینہ مسلہ یعنی خالص منافع  کی صیع تعین ، حصول اور اس کے بقایاجات کا مسلہ ابھی تک حل طلب ہے ۔ کبھی منافع کا صیع تعین نہیں ھوتا کبھی پورے بقایاجات نہیں ملتے وغیرہ وغیرہ۔ صوبے میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر کی دریافت اور اس کی آمدنی کا صیع تعین اور صوبے میں خام تیل کی ریفائنری کا قیام وغیرہ ایسے ٹیکنیکل مسائل ہے جس پر مذید کام کی ضرورت ہے۔
ھم پشتون سیاسی قیادت، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کی توجہ ملک کو داخلی اور خارجی بحرانوں اور درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے فوری طور پر مندرجہ ذیل اقدامات کی طرف دلاتے ھیں ۔ امید کہ وہ ان مطالبات کو اپنے اپنے پلیٹ فارم سے اٹھانے کی کوشش کرئینگے۔
۱. چونکہ ملک کی داخلی اور خارجہ پالیسیاں مکمل طور پر ناکام ھوچکی ہے۔ باشعور اور ذمہ دار شہریوں اور مختلف الخیال قومی حلقوں کی جانب سے موجودہ ناعاقبت اندیش پالیسیوں پر نظرثانی اور اس میں بنیادی تبدیلیوں کے بار بار مطالبات سامنے آرہے ھیں ۔ اس لئے فوری طور پر نیشنل ایکشن پلان کی طرح وسیع قومی مشاورت سے پارلیمان کے زریعے ملک کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں پر بھرپور بحث اور مباحثہ کیا جائے اور نئی پالیسیاں وضع کی جائے۔
۲. علاقے میں امن اور استحکام کیلئے ھمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے ھمسائیگی کے تعلقات قائم کیئے جائے اور علاقائی تعاون کو فروغ دیا جائے
۳. حکومت اڑی دھشت گرد حملے یا اس قسم کے دیگر حملوں کی تحقیقات میں تعاون اور پاکستانی شہریوں پرالزامات کی تحقیقات کرے۔ پٹھان کوٹ واقعے کے بعد مشترکہ تعقیقات کا آغاز ھوا تھا اور پاکستان سے تحقیقاتی ٹیم نے بھارت کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس کے بعد بھارت کی تفتیشی ٹیم نے آنا تھا مگر ان کو اجازت نہیں دی گی اور وہ عمل آگے نہ بڑھ سکا۔
۴ . ھمسایہ ممالک کی شکایات اور الزامات کی روشنی میں مطلوب یا نامزد افراد سے تعقیقات کی جائے اور ان کی کڑی نگرانی کی جائے۔ اس طرح ھمسایہ ممالک کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پاکستان کی شکایات کا نوٹس لیں
۵.  ھمسایہ ممالک میں دھشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد اور تنظیموں پر پابندی لگائی جائے اور انکے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، تربیتی مراکز اور دیگر دفاتر سیل کئے جائے۔ اس طرح ھمسایہ ممالک کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ھاں بھی اس قسم کا عمل کرے
۶ . عسکریت پسند تنظیموں کی پابندی کے بعد نئے نام سے دوبارہ کام کرنے کی حوصلہ شکنی کیلئے نہ صرف پرانے نام سے کام اور کالعدم تنظیم کے اوپر سے لیکر نچلی سطح کے تمام عھدہ داران کو کسی بھی دوسری تنظیم میں سرگرم حصہ لینے پر پابندی لگائی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔
۷.  اچھے اور برے عسکریت پسندوں کی پالیسی ترک اور دھشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی جائے
۸ .  نیشنل ایکشن پلان پر سختی سے عملدرامد اور دھشت گردی اور انتہاپسندی کی روک تھام کیلئے سیاسی، سماجی، معاشی ، تعلیمی اور ثقافتی شعبے میں ضروری اصلاحات کی جائے تاکہ انتہاپسندی ، تشدد ، عدم رواداری اور مذھبی منافرت کی حوصلہ شکنی ھو اور امن، رواداری اور ھم آھنگی کیئے سازگار ماحول بنایا جاسکے۔
۹ . خیبر پختونخوا اور فاٹا کے شورش زدہ علاقوں کی ازسرنو بحالی اور تعمیر نو کا عمل انتہائی سست اور نہ ھونے کے برابر ہے ۔ اس لئے بحالی کیلئے جامع اور مربوط اقتصادی پیکج کا اعلان کیا جائے۔
 ۱۰ . فاٹا ریفارم کا بلا تاخیر اعلان کیا جائے۔
۱۱ . چین پاکستان اقتصادی راھداری منصوبہ اور خصوصا مغربی روٹ کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان اپنے وعدوں کو ایفا کرے۔
پشتون سوشل میڈیا موومنٹ ایک خود رو تحریک ہے جو پشتونوں کی حقوق کیلئے سوشل میڈیا پر سرگرم عمل ہے۔ رابطہ کیلئے ایمیل ہے۔ pashtunsocialmediamovement@gmail.com

Aimal Khattak

The author is a political commentator mainly covering socio-political and peace issues. He frequently comments on regional issues, especially Afghanistan. Aimal Khattak can be contacted at: aimalk@yahoo.com

aimal has 80 posts and counting.See all posts by aimal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *