اردو کے ایک پجاری کا حال

ممتاز خان
ایک نہایت قابل اردوداں بلکہ ماہر لسانیات ہیں۔ ان کو اردو سے صرف محبت ہی نہیں بلکہ اس پر حقوقِ اجارہ داری بھی ہے۔ وہ جب اردو کو بگڑتا دیکھتے ہیں تو غصے سے برہم ہوجاتے ہیں، مگر اکثر خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتے ہیں، اور جب گستاخی حد سے تجاوز کرجائے تو اردو کو مجروح کرنے والے کا اپنی ادبی تلوار سے سر بھی قلم کردیتے ہیں۔ اردو الفاظ میں کہیں کوئی زیر و زبر میں (غالباً وہ کہیں گے زیر و زبر کہنا غلط ہے، یہ زیر زبر ہے) ذرا سی بھی اونچ نیچ ہوجائے تو بلند بانگ میں احتجاج کرتے ہیں۔
پنجابی زبان میں گانا گانے والی، ریشماں مرحوم کو اردو زبان کی نظم گانے میں محض اس لیے عذر تھا کہ اگر کہیں اس معصوم کے ہاتھوں کسی زیر زبر کا قتل ہوگیا تو اردوداں لوگ اس سے خفا ہوجائیں گے۔ غالباً ریشماں ان اردوداں کو جانتی تھی، یا صرف ان کے تیور کو پہچانتی تھی۔ تعجب ہے کہ ان ماہر اردو داں صاحب نے اکبر الہ آبادی کے ابھی تک بخیے نہیں ادھیڑے، جنہوں نے نہایت دیدہ دلیری سے، بھرے بازار میں، انگریزی کے لفظ نیچر کا اردو زبان سے نکاح پڑھوا دیا تھا۔
یہ اردو داں صاحب، اردو کی صحت عام کے سلسلے میں اس درجہ تک حساس ہیں کہ، دروغ بر گردن راوی، ایک مرتبہ اردو کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر برہم ہوتے ہوئے انہوں نے اس صورتحال کا کسی حد تک ذمہ دار اپنی اہلیہ کو بھی ٹھیرایا۔ بلکہ اس میں تمام  مائوں کو بھی لپیٹ  میں لے لیا۔ بقول ان کے مائیں اپنے بچوں سے سلیس اردو میں گفتگو نہیں کرتی ہیں۔ ان  کی اہلیہ نے، دروغ بر گردن راوی، ان کی اس نکتہ چینی پر زبردست احتجاج کیا کہ جانے کیوں ہر غلط بات میں وہ ان کو ملوس کردیتے ہیں۔ چمک کر بولے، ’دیکھا! آپ نے ملوث کو ملوس کی طرح ادا کیا ہے۔‘
اس پر ان کی اہلیہ کا غصہ اور بڑھ گیا۔ تنک کر بولیں، ’بس بس، رہنے دیں۔ میں تو جارہیں ہوں شاپنگ کو، بھوک لگے تو اس سفید، ٹھنڈار رکھنے والے کھڑے صندوق سے کھانا نکال کر کھا لینا۔‘
سوچتا ہوں ان صاحب کا کیا حال ہوتا ہوگا جب وہ اردو زبان میں ٹی وی پر تازہ تازہ خبروں کے اعلان کی جگہ ’بریکنگ نیوز‘ اعلان سنتے ہونگے۔ یا

Mumtaz Khan

ممتاز خان، امریکہ میں عرصہ سے مقیم ہیں۔ آئی بی ایم کی نوکری کے بعد سے ۲۰۰۴ سے رٹائر زندگی گزاررہے ہیں

mumtaz has 1 posts and counting.See all posts by mumtaz

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *