!آپکو بلاک کیا جاتا ہے

آئینہ سیدہ

جناب میں آپکے دروازے پر کافی دیر سے دستک دے رہی تھی ماجرا یہ بیان کرنا تھا کہ آپکے ہمساۓ میں جو بڑے صاحب رہتے ہیں انکے گھر سے درد بھری چیخوں اور سسکیوں کی آوازیں آرہی ہیں کیا آپ یہ معلوم کرکے بتا سکتے ہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے؟؟  اوردھڑ کی آواز کے ساتھ آہنی دروازہ میرے منہ پر بند کر دیا جاتا ہے

بند دروازے کے اوپر بڑا بڑا لکھا ہے…………..تمہیں بلاک کیا جاتا ہے

عرض  ہےکہ یہ واقعہ حقیقی نہیں مگرمجھےاورآپکو ایسے ہی واقعات کا سامنا روزسوشل میڈیا پرہوتا ہے” تفتیشی صحافت ” کے علمبردار صحافی اور اینکرز بڑے طمطراق سے بیرون ملک اپنی یاداشتوں کا ذکر ٹویٹس اور سٹیٹس اپڈیٹس کے ذریعے کر رہے ہوتے ہیں یا پھر اپنے کالمز پر داد کے طالب ہوتے ہیں اس تڑکے کے ساتھ کہ فلاں کالم میں دس سال پہلے ہی میں یہ پیشگوئی کر چکا ہوں جو آج حرف بہ حرف پوری ہو رہی ہے یا پھر سیاستدانوں پر لگے الزمات اور انکے دوستوں رشتےداروں کی جانی مانی فہرستوں کو قارئین  و ناظرین سے شئیر کر کے اپنے لیے داد اور اپنے مخبر کو سیاسی شوز میں  “چڑیا ، کوا  یا چھچوندر ” کا نام دے کر واہ واہ کے طلبگار ہوتے ہیں

ایسے میں آپ انکی” میٹھی میٹھی تفتیش” کا رخ زمینی حقایق کی طرف موڑ دیں توانکی جان ہی تو جل جاتی ہے. سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حقیقی صحافت کیا ہے ؟

صحافییوں کی مستند تنظیموں کے مطابق صحافتی اقدارکا مطلب ھی صحافی  برادری کی طرف سے ایسی کوششیں ہیں جس میں اس بات کو یقینی بنایا جا  سکے کہ  معاشرے کے باشعوروبےشعور،تعلیم یافتہ اورغیرتعلیم یافتہ ہردو قسم کے افراد کو معلومات کی فراہمی اس طرح یقینی بنائی جاۓ کہ یہ معلومات ” غیر جانبدارانہ ، مکمل اورمستند ” ہو

مزید یہ کہ تفتیشی صحافت کا مطلب جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ایسی صحافت جس میں عوام  سے چھپائی جانی والی خبروں اور اسکینڈلز کی اس طرح تفتیش اوررپورٹنگ کی جاۓ کہ طاقتوراداروں کی جانب سے ملکی قانون اورمعاشرتی اصولوں  کی انفرادی اوراجتماعی خلاف ورزی ثابت ہوجاۓ

اس طرح  اداروں کی  سنگین غلطیاں اورافراد کی مجرمانہ غفلت کو ایک مکمل رپورٹ کی صورت میں ثبوتوں کے ساتھ  عوام تک پہنچایا جاۓ کہ ان مجرمانہ لاپرواہیوں کی نشاندھی ہوسکے. اس کے علاوہ  معاشرے میں موجود مجرمانہ رجحانات کی نشاندھی انکی وجوہات اورتدارک بھی  تفتیشی صحافی کے فرایض منصبی میں داخل ہے

صحافت اور تفتیشی صحافت کے بارے میں یہ تمہید باندھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ کسی کمرے میں بند کوئی بھی خاتون یا حضرت یہ دعوی نہیں کر سکتے کہ وہ تفتیشی صحافت کی توپ ہیں اس دعوے کے لیے انہیں “کمرے سے باہر “نکلنا ہوگا یہ کام ہی زمین پر حقایق تلاش کرنے کا ہے اورزمین پرموجود جس مخلوق سے آپ ان اسکینڈلز کے بارے میں معلومات اورانکی حقیقت کے بارے میں ثبوت اکھٹے کرتے ہیں  وہ آپکے دائیں بائیں موجود ہونی چاہیے اور حقیقت حال یہ ہے کہ ایک تفتیشی صحافی بلکہ ایک عام سا رپورٹر بھی زمین پر ہونے والے واقعات ا ورانپرعوامی راۓ جانے بغیرکچھ نہیں کرسکتا

مگر جسطرح ہم نے پاکستان میں تاریخ سے سیاست تک کو دیسی بگھار لگا کرکوئی نئی ڈش بنا لی ہے اسی طرح تفتیشی صحافت کو بھی چڑیا، طوطے کی لائی ہوئی افواہوں میں ڈھونڈ لیتےہیں اورپھر انہی افوہوں کو نمک مرچ لگا کر رنگ برنگی ٹائیوں اورمیک اپ زدہ چہروں کےساتھ شام سات سےرات بارہ بجےتک پیش کردیتےہیں یہ  مصالحے دار ڈش کھانےوالےناظرین کا بقیہ رات میں کیاحشرہوتا ہے؟؟ یہ نامور صحافیوں اور سینئیرتجزیہ نگاروں کا مسلہ نہیں

برسوں  پہلے اخبارات  اور نجی محفلوں میں ملاقات کے ذریعے  مشہور کالم نگار اور صحافی داد بٹورتے تھے  کچھ کھرے صحافیوں پر سخت وقت بھی ساتھ ساتھ گزرا مگر صرف ان صحافییوں پرجنہوں نےحقیقت میں تفتیشی صحافت کی اور پاکستان کے واحد ” منظم ” ادارے کی کالی دیواروں کے پیچھے جھانکنے کی کوشش کی یا کم سے کم کالی دیوار پر عوامی نعرے لکھنے کی سعی کی مگر سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا  آنے کے بعد ایسے صحافی آٹے میں شاید نمک کے برابر بھی نہ رہے….جو تھے انکو ریاست ، اسکے گماشتے اور تنظیموں کی چھپر چھاؤں میں پلتے غنڈوں نے ایک ایک کر کے دوسرے جہاں بھجوا دیا  باقی جو اپنے نام کے ساتھ “انوسٹیگیٹو جرنلسٹ “لگاتے ہیں اللہ جانے کہاں سے معلومات ،اور ثبوت اکھٹے کرتے ہونگے ؟

آجکل کے صحافی نما اینکرز اور سینیر تجزیہ کار نامی مخلوق تو صرف اپنےرات کے شو پر اور صبح کے کالم پر فل ٹایم تعریفی جملوں کی موسلا دھار بارش چاہتی ہے

خواتین اینکرز سیلفیو ں کے ذریعے اپنی بے پناہ ذھانت کا پرچار کرتی ہیں اور مرد بیرون ملک دوروں کو اپنی ذھانت کی کامیابی قرار دیتے ہیں

ایسے میں کوئی مجھ  جیسا دروازہ کھٹکھٹا کر ” طاقتور ہمساۓ  کے گھر میں اٹھتی چیخوں ” پر تفتیش کرنے کی درخواست  دے تو صحافت اور صحافی دونوں کا منہ کڑوا ہوجاتا ہےاللہ بھلا کرے فیس بک اور ٹویٹر بنانے والوں کا کہ جنہوں نے “بلاک ” کا آپشن دے کر ہم جیسے گستاخوں کو اپنی اوقات میں رہنے کا موقع فراہم کر دیا

بچپن  میں ہم ایک کھیل  “چھپن چھپائی ” یا  ” لکن مٹی ” کے نام سے کھیلتے تھے بڑے شہروں کے مزید مہذب بچے اسی کھیل کو “چور سپاہی ” کا نام دیتے تھے مختصر یہ کہ بچوں میں یہ کھیل بہت مقبول تھا  ایک بچہ بچوں کے ایک گروپ کو ڈھونڈےاوروہ مختلف جگہوں میں چھپ کربیٹھ جائیں پرانے زمانے میں بڑے یہ کھیل نہیں کھیلتے تھےمگر آج “بڑے بڑے “یہ کھیل سوشل میڈیا پرکھیلتے ہیں . تین سال پہلےمیں نےٹویٹرپراپنا اکاونٹ بنایا اوردو مہینے کے اندر اندر ایک “مستند مانےجانےوالے” اینکرنما تجزیہ کارنے ایک عدد  تلخ  سوال  پر بلاک کیا تو مجھے بچپن کا یہ کھیل یاد آگیا لیکن ٹویٹر پر خود کو سپاہی  ثابت کرنے والا تفتیشی صحافی چوروں کو ڈھونڈنے کی بجاۓ بلاک آپشن کے ذریعے  بذات خود چور ثابت  ہوجاتا ہے اور اپنے گرد اونچی دیواریں بنالیتا ہےاور کیوں نہ بناۓ ؟؟  چھتیس سال تک فوجی بوٹوں کےساۓ تلےرہنے کے بعد اگرہم  سمجھتے ہیں کہ ٹویٹر پر اکاونٹ بنانے والے بڑے بڑے نام  جو اپنے شوز میں ہر دوسرے سیاستدان یا حکمران کو شیطان کا بھائی قرار دینے پرتلے ہوتے ہیں ،  وہ جمہوری ذہنوں کے مالک ہونگے تو ہماری  یہ سوچ بالکل غلط ہے ایسی “بچگانہ سوچ ” رکھنے والوں کو ذہین و فطین صحافی بلاک نہ کریں تو کیا کریں ؟

آپ پوچھ سکتے ہیں  کہ اگر ہم عام ٹویپس کو بلاک آپشن استعمال کرنے کی آزادی ہے تو صحافی کو کیوں نہیں ؟؟ بالکل آزادی ہے جناب ! مگر صحافی اورخاص طورپرتفتیشی صحافی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ہر دوسرے ٹویپ  کوبلاک کر دے ! کیا ایسے صحافی نہیں جانتے کہ  “اندر کی خبریں” حاصل کرنے کے لیے آپ میں برداشت کی کتنی قوت ہونی چاہیے ؟ آپکا حوصلہ کتنا بلند ہونا چاہیے اور آپکی کھال کتنی موٹی ہونی چاہیے ؟

تو پھر بلاک کب کیا جاۓ ، کس کو کیا جاۓ اور کب تک کیا جاۓ؟مختلف بلاگز اور اخبارات میں چھپے اعداد و شمار یہی بتاتے ہیں کہ ٹویپ کی اکثریت دھمکیوں ،بدزبانی اور جنسی طور پر ہراساں کرنے والے افراد کو بلاک کر دیتی ہے  اورانکی رپورٹ بھی کی جاتی ہے

مگر آج تک کسی بین الاقوامی سروے اور بلاگر نے یہ نہیں کہا کہ  تلخ سوال پوچھنے پر بھی بلاک کیا جاسکتا ہے

 مگرہمارے  صحافی ، اینکرز اور تجزیہ کار کہلانے والے عقل و دانش کے مینار جنہیں لوگوں  سے اسی ٹویٹر کے ذریعے رابطہ رکھ کرمعلومات  یا فیڈ بیک حاصل کرنی ہوتی ہےوہ اپنے فالوورز کو”سخت سوالوں یا بے لاگ کمنٹس “کی وجہ سے بلاک کر دیتے ہیں

میں یھاں انکی کم حوصلگی پرافسوس نہیں کروں گی کیونکہ انکی برداشت کی کمی انکا ذاتی معاملہ ہےانکےخاندان کی قسمت !! میری حیرانگی انکےاس طرح تنقید یا سوالات پر مستقل بلاک کر دینےپرہے

یہ تو ایسا ہی ہے جیسےکوئی استاد اپنی کلاس کے دوران شاگرد کے سوالا ت سےتنگ آکراسکوزندگی بھرکےلیےمرغا بنا دے اب بھلا بتائیں ایسےاستاد کو آپ کیا کہیں گے؟ یقینن ……..جاہل

جو استاد شاگرد کوسوال کا جواب  نہیں دے پارہا اسکی اپنے مضمون میں کتنی دسترس ہوگی؟ اگروہ شاگرد کی کم عقلی ،زبان درازی ،تیزی یا اپنےسے زیادہ ذھانت  وغیرہ کا خود مقابلہ نہیں کرپارہا تو شاگرد اس سےکیا سیکھےگا ؟

 یقینن مطلق عنانیت اورجہالت

یہی حال ایسے تفتیشی صحافی کہلانےوالےاینکرزاورسینیر کا دم چھلہ لگانے والےتجزیہ کاروں کا ہے جو نہ کسی کی معلومات میں اضافہ کرپاتے ہیں نہ اپنی برداشت کا میعار بڑھاتے ہیں بلکہ جب بحث میں کسی دوسرے صحافی  یا سیاسی ٹویپ سے ہارتے نظر آئیں تو اپنی آنا کا جھوٹا ڈھول گلے میں ڈال کر پیٹتے نظر آتے ہیں دو تین ماہ گزرنے کے بعد بھی کینہ نکا لنا نہیں بھولتے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کینہ ور کبھی بھی ہردلعزیز شخصیت نہیں بن سکتا مگر ایسے اینکرز کااصرار یہی ہوتا ہے کہ ہم ہردلعزیز افراد ہیں اگر کوئی ہماری تعریف نہیں کررہا تو اسکے ذہن کے پیچ ڈھیلے ہیں بلاک کے آپشن سے دراصل وہ ہمارے ان پیچوں کا علاج کرتے ہیں

میں نے کبھی بلاک کیے جانے پر کسی صحافی یا اینکر سے انبلاک کرنےکی درخواست نہیں کی مگرآج تین سوال ان “اندرکی ” خبروں اور تجزیوں کی دکانیں سجانےوالوں سےضرورپوچھنا چاہوں گی

جواب کی امید  کم ہےکیونکہ جن لوگوں نےپہلےبھی سوالوں کی وجہ سےہی میرے”منہ پرٹیپ ” لگا دیا ہے وہ  بھلا  اب کیا جواب دیں گے مگر جیسے یہ صحافی بڑے طمطراق سے سیاستدانوں کے حلق میں انگلیاں ڈال ڈال کر اپنی مرضی کے جواب لینا چاہتے ہیں ہمیں بھی یہی آزادی ہے کہ جواب ہماری مرضی کا آ ئے یا نہ آئے کم از کم حلق میں ایک اچھے ڈاکٹر کی طرح ٹارچ مار کر جواب کی تلاش جاری رکھیں

سوال مندرجہ ذیل ہیں

سوال نمبر۱: آپ تفتیشی صحافی کہلاتےہیں اگرآپ چبھتےسوالات اور تنقید پرٹویپس کا منہ  اسی طرح بند کردیتےہیں تو آپ کےپاس کس قسم کا فیڈ بیک رہ جاتا ہے؟

سوال نمبر۲ : کیا آپکی یہی متکبرانہ اور چھوٹی سوچ ہے جسکی وجہ سے آپکو انسان مخبر نہیں بلکہ چڑیا ، کوے ، چھچوندر اور الو معلومات فراہم کرتے ہیں ؟

سوال نمبر۳ : کیا  بلوچستان کے بارے میں آپ سےسوال کرنا جرم ہے ؟

دوستو ! میں تو اکثر تفتیشی صحافیوں ، میک اپ زدہ اینکروں اور نوجوان ترین “سینیر”تجزیہ کاروں سے بلاکڈ ہوچکی ہوں میرے یہ  سوالا ت اب ان تک پہنچانا  آپکا کام ہے

aina syeda

آئینہ سیدہ نے عملی زندگی کا آغاز ایک استاد کی حیثیت سے کیا اور قلم کا سفر پاکستانی سیاست کے اتار چڑھا ؤ اور معاشرے کی منافقتوں پر اخبارات اور رسائل میں کالم نگاری سے ،احساسات کی ترجمانی کرنے کے لیے شاعری کا سہارا لیتی ہیں اور زندگی کو مقصد فراہم کرنے کے لیے کمیونٹی کو اکثر اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرتی رہتی ہیں -------------------------- ان سے رابطے کے لیے ٹویٹر ہینڈل ہے @A_ProudCivilian

aina has 14 posts and counting.See all posts by aina

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *